آئی ایم ایف نے پٹرول کی قیمت میں اضافے کا بڑا مطالبہ کر دیا،اب پٹرول کتنا مہنگا ہوگا؟

آئی ایم ایف نے پٹرول کی قیمت میں اضافے کا بڑا مطالبہ کر دیا،اب پٹرول کتنا مہنگا ہوگا؟

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی کے مطابق فوری طور پر بڑھائی جائیں اور ان پر کسی قسم کی سبسڈی نہ دی جائے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اس وقت ورچوئل مذاکرات جاری ہیں، جن میں آئی ایم ایف حکام نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی عالمی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو فوری طور پر مقامی مارکیٹ میں منتقل کیا جائے۔

آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دینے سے گریز کرے اور عالمی قیمتوں کے مطابق نرخ مقرر کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں مقرر کردہ ہدف کو بھی ہر صورت پورا کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ 30 جون تک پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں 1468 ارب روپے کا ہدف حاصل کیا جائے۔ مالی سال کے پہلے چھ ماہ، یعنی جولائی سے دسمبر تک پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں 822 ارب روپے جمع کیے جا چکے ہیں، جو مقررہ ہدف کا 60 فیصد سے زائد بنتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت کیوں ہو رہی؟معاملہ وزیر اعظم تک پہنچ گیا

دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے اثرات پاکستان میں بھی متوقع ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 15 مارچ تک ملک میں پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت میں تقریباً 32 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔

اطلاعات کے مطابق پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 153 روپے 50 پیسے سے بڑھ کر تقریباً 186 روپے 47 پیسے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 50 روپے سے زائد فی لیٹر اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عالمی منڈی میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 93 ڈالر 2 سینٹ فی بیرل سے بڑھ کر 138 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ پیٹرول کی عالمی قیمت 79 ڈالر 14 سینٹ فی بیرل سے بڑھ کر تقریباً 97 ڈالر 92 سینٹ فی بیرل تک جا سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی دیکھنے میں آ سکتا ہے، جس کے براہ راست اثرات مہنگائی اور عوامی اخراجات پر پڑیں گے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *