چین اپنے دوست ملک ایران سے آبنائے ہرمز میں تیل اور گیس کے بحری جہازوں کو محفوظ راستہ دینے کیلیے بات چیت کر رہا ہے۔
روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں تین سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حملوں میں شدت آنے کے بعد چین تہران کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے تاکہ خام تیل اور قطری مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ راستہ دیا جا سکے۔
جنگ نے جہاز رانی کے اس اہم راستے کو تقریباً بند کر دیا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر کے ممالک عالمی منڈی میں تیل اور ایل این جی کی سپلائی کے پانچویں حصے سے محروم ہوگئے ہیں۔
چین کے ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں اور بیجنگ اپنی توانائی کی ضروریات کیلیے مشرق وسطیٰ پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ یہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کو مفلوج کرنے کے ایرانی اقدام پر ناخوش ہے اور تہران پر زور دے رہا ہے کہ وہ جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرے۔
دنیا کی دوسری بڑی معیشت بیجنگ اپنی ضرورت کا تقریباً 45 فیصد تیل آبنائے ہرمز ہی سے حاصل کرتا ہے۔
جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ڈیٹا کے مطابق آئرن میڈن نامی ایک جہاز نے سگنل تبدیل کر کے چینی ملکیتی ظاہر کی اور گزشتہ رات آبنائے ہرمز سے گزرا تاہم عالمی منڈیوں میں اضطراب ختم کرنے کیلیے اس طرح کے مزید کئی جہازوں کی بحفاظت آمد و رفت ضروری ہوگی۔