پاسدارانِ انقلاب کا ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت چیلنج: “ہمت ہے تو آبنائے ہرمز میں بحری جہاز بھیج کر دکھائیں”

پاسدارانِ انقلاب کا ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت چیلنج: “ہمت ہے تو آبنائے ہرمز میں بحری جہاز بھیج کر دکھائیں”

ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کو ایک نئے اور خطرناک ترین موڑ پر پہنچا دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے جواب میں کہ “ایران کی بحری قوت ختم کر دی گئی ہے”، ایرانی عسکری قیادت نے وائٹ ہاؤس کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کھلا چیلنج دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی پسدارانِ انقلاب کو امریکی صدر کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی صدر اپنے دعووں میں سچے ہیں تو وہ آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جہاز بھیج کر دکھائیں۔ پاسدارانِ انقلاب کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کی بارش کر کے اپنی جارحانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے، اور اب وہ دنیا کی اہم ترین تیل کی گزرگاہ پر اپنے مکمل کنٹرول کا دعویٰ کر رہا ہے۔

ایرانی کمانڈرز نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی نگرانی کرنے والے ان کے دفاعی نظام اور اینٹی شپ میزائل بیٹریاں پوری طرح فعال ہیں اور امریکی بحریہ کی کسی بھی نقل و حرکت کا “عبرتناک انجام” ہوگا۔

اس چیلنج نے عالمی منڈیوں میں شدید اضطراب پیدا کر دیا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل گزرتا ہے اور یہاں کسی بھی قسم کا عسکری تصادم عالمی معیشت کو مفلوج کر سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران اس وقت “اعصاب کی جنگ” جیتنا چاہتا ہے اور امریکہ کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ فضائی حملوں کے باوجود زمینی اور سمندری حقائق تہران کے حق میں ہیں۔

دوسری جانب، صدر ٹرمپ کے جارحانہ عزائم اور ایران کو “ختم کرنے” کی دھمکیوں کے بعد خطے میں موجود امریکی بحری بیڑے ہائی الرٹ پر ہیں۔

اگر امریکہ اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے اپنے جنگی جہاز اس تنگ گزرگاہ میں داخل کرتا ہے، تو یہ ایک بڑے بحری تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے جہاں ایران اپنے “سوارم ٹیکٹکس” (درجنوں چھوٹی تیز رفتار کشتیوں کے بیک وقت حملے) کے ذریعے جدید امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: چین کی ایران سے آبنائے ہرمز سے جہازوں کو محفوظ راستہ دینے کیلیے بات چیت

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *