پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد ملک بھر کے ٹرانسپورٹرز نے شدید ردعمل دیتے ہوئے مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں بیس فیصد اضافے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے باعث اشیائے ضروریہ سمیت مختلف تجارتی سامان کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ان کے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے کرایوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔
پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان نے اس حوالے سے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر اٹھہتر روپے جبکہ پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر اڑسٹھ روپے اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کے لیے شدید دھچکے کے مترادف ہے کیونکہ مال بردار گاڑیوں کا زیادہ تر انحصار ڈیزل پر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹ کے تمام اخراجات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں جن میں گاڑیوں کی دیکھ بھال، پرزہ جات، ٹائر اور مزدوروں کی اجرت بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں ٹرانسپورٹرز کے لیے پرانے کرایوں پر کام جاری رکھنا ممکن نہیں رہا، اسی لیے ملک بھر میں مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں بیس فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔
ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ اگر حکومت نے کسی معاشی مجبوری کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے تو اسے چاہیے کہ ٹرانسپورٹرز کو ریلیف دینے کے لیے ٹول ٹیکس اور دیگر سرکاری ٹیکسوں میں کمی کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹیکسوں میں کچھ کمی کر دی جائے تو ٹرانسپورٹرز پر پڑنے والا بوجھ کسی حد تک کم ہو سکتا ہے اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی سہارا ملے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی نازک معاشی صورتحال کے باوجود ٹرانسپورٹرز ملک بھر میں درآمدی اور برآمدی سامان کی ترسیل کے ساتھ ساتھ صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اگر ٹرانسپورٹ کا پہیہ رک گیا تو اس کا اثر براہ راست صنعت، تجارت اور عام شہریوں کی روزمرہ زندگی پر پڑے گا۔
صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ صرف ٹرانسپورٹرز ہی نہیں بلکہ پورے ملک کی معیشت کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ کے کرایے بڑھتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اشیائے خور و نوش سمیت دیگر ضروری سامان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے، جس سے مہنگائی کا ایک نیا طوفان جنم لیتا ہے۔
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کے باعث ماضی میں ٹرانسپورٹرز کو 10 دن کی ملک گیر ہڑتال کرنا پڑی تھی۔ ان کے مطابق اس ہڑتال کے دوران پنجاب حکومت کے سینیئر وزیر مریم اورنگزیب اور صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر کے ساتھ مذاکرات کے بعد متعدد معاہدے طے پائے تھے تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان معاہدوں پر تاحال مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
ملک شہزاد اعوان نے یہ بھی کہا کہ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی جانب سے بھی ٹرانسپورٹرز کو مختلف مسائل کے حل کی یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں مگر ان وعدوں پر بھی ابھی تک عملی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتیں بھی فوری طور پر ٹرانسپورٹرز کے ساتھ کیے گئے وعدوں اور معاہدوں پر عملدرآمد یقینی بنائیں تاکہ اس شعبے کو درپیش مسائل کم کیے جا سکیں۔