ایک بھارتی صحافی برج موہن سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل حملوں کے نتیجے میں اسرائیل میں نمایاں تباہی ہوئی، تاہم اسرائیلی حکومت اصل جانی و مالی نقصان کو عوام اور عالمی میڈیا سے چھپا رہی ہے۔ صحافی کے مطابق زمینی حقائق سرکاری بیانات سے مختلف نظر آئے اور کئی علاقوں میں صورتحال انتہائی سنگین تھی۔
بھارتی ذرائع ابلاغ ادارے سادھنا پلس نیوز کے سربراہ برج موہن سنگھ رگھوونشی نے اسرائیل سے بھارت واپسی کے بعد اپنے مشاہدات میڈیا کے ساتھ شیئر کیے۔ وہ اسرائیل میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کی کوریج کے لیے گئے تھے تاہم اسی دوران مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی اور ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کے باعث فضائی پروازیں معطل ہو گئیں جس کے نتیجے میں وہ اور دیگر کئی بھارتی صحافی کچھ وقت کے لیے اسرائیل میں ہی پھنس گئے۔
واپسی کے بعد برج موہن سنگھ نے اپنے تجربات اور مشاہدات معروف صحافی یشونت سنگھ کے ساتھ شیئر کیے جو بھداس فور میڈیا کے بانی مدیر ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ ایرانی میزائل حملوں نے اسرائیل کے مختلف علاقوں میں شدید تباہی مچائی اور کئی عمارتیں اور رہائشی علاقے متاثر ہوئے۔
صحافی کے مطابق بعض حملے اتنے شدید تھے کہ تقریباً سو فٹ گہرے زیر زمین بنکر بھی مکمل طور پر محفوظ ثابت نہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ عام طور پر سمجھتے ہیں کہ زیر زمین پناہ گاہیں انہیں ہر قسم کے حملے سے محفوظ رکھتی ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ میزائل حملے کے دوران یہ فرق نہیں ہوتا کہ کون کس ملک سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ دھماکے کی شدت ہر ایک کو متاثر کرتی ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے ایسے واقعات بھی دیکھے جہاں زیر زمین پناہ گاہوں میں موجود افراد بھی حملوں کی زد میں آ کر جان کی بازی ہار گئے۔
برج موہن سنگھ نے یہ بھی کہا کہ جنگی صورتحال کے دوران اسرائیل میں میڈیا پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔ ان کے مطابق صحافیوں کو نہ تو متاثرہ مقامات پر آزادانہ طور پر رپورٹنگ کی اجازت دی گئی اور نہ ہی انہیں زخمیوں یا ہلاک ہونے والوں کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے کی اجازت تھی۔
انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو اسپتالوں کے دورے سے بھی روک دیا گیا جس کے باعث زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کی اصل تعداد کی تصدیق کرنا مشکل ہو گیا۔ ان کے مطابق کئی مواقع پر حکام کی جانب سے ہلاکتوں کی کم تعداد ظاہر کی گئی جبکہ مقامی شہریوں کا دعویٰ تھا کہ حملوں میں پورے خاندان متاثر ہوئے۔
بھارتی صحافی نے مزید کہا کہ بعض حملوں کے دوران سائرن بھی وقت پر نہیں بجے جس کی وجہ سے لوگوں کو خطرے کا بروقت اندازہ نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ عام تاثر یہ ہے کہ اسرائیل کے پاس جدید دفاعی ٹیکنالوجی موجود ہے جو میزائلوں کو روک سکتی ہے، لیکن زمینی صورتحال میں بعض اوقات یہ نظام مکمل طور پر مؤثر نظر نہیں آیا۔
ان کے مطابق کچھ مواقع پر حملے اچانک ہوئے اور لوگوں کو پناہ لینے کے لیے مناسب وقت بھی نہیں ملا جس سے خوف اور بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ جنگی ماحول میں شہری شدید ذہنی دباؤ اور خوف کا شکار دکھائی دیتے تھے۔
تاہم اسرائیلی حکومت کی جانب سے بھارتی صحافی کے ان مخصوص دعوؤں پر اب تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جنگی حالات میں معلومات کی ترسیل پر پابندیاں عائد کرنا بعض اوقات حکومتی پالیسی کا حصہ ہوتا ہے تاکہ سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھا جا سکے۔
واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے اور اگر حالات مزید خراب ہوئے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔