مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال اور جنگی خدشات کے باعث سونے کی عالمی تجارت بھی متاثر ہونے لگی ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے تاجر خاص طور پر دبئی میں سونا رعایتی نرخوں پر فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں کیونکہ خطے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے تجارت کے معمولات کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ کشیدگی کے بعد کئی فضائی پروازیں منسوخ ہو گئی ہیں جس کے باعث سونے کی ترسیل اور تجارت کے معمول کے راستے متاثر ہوئے ہیں۔ اس صورتحال نے سپلائی چین میں رکاوٹ پیدا کر دی ہے اور تاجروں کو سونے کی بروقت ترسیل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سونا سستا، چاندی کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
تجارتی ذرائع کے مطابق دبئی جو کہ عالمی سطح پر سونے کی تجارت کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے وہاں سونے کی خرید و فروخت میں غیر معمولی سست روی دیکھی جا رہی ہے۔ متعدد خریداروں نے غیر یقینی حالات کے باعث نئی خریداری مؤخر کر دی ہے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ موجودہ حالات میں سونے کی ترسیل میں تاخیر یا اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق شپنگ اور انشورنس کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے خریدار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں نہ تو ترسیل کا وقت واضح ہے اور نہ ہی سامان کے محفوظ پہنچنے کی مکمل ضمانت دی جا سکتی ہے۔
اسی وجہ سے کئی تاجروں نے سونے کو طویل عرصے تک گوداموں میں رکھنے کے بجائے اسے رعایتی قیمت پر فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انہیں ذخیرہ کرنے اور مالی اخراجات کا مسلسل بوجھ برداشت نہ کرنا پڑے۔ ذرائع کے مطابق بعض تاجر عالمی معیار کی قیمت کے مقابلے میں فی اونس تقریباً تیس ڈالر تک کم قیمت پر سونا فروخت کر رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق دبئی سونے کی عالمی تجارت میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہاں سے سونا ایشیا کے مختلف ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے جبکہ سوئٹزرلینڈ، برطانیہ اور افریقی ممالک سے آنے والا سونا بھی اکثر دبئی کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
مزید

