وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ہنگامی اجلاس، عوام کو ریلیف دینے کا فیصلہ، بچت پر مبنی نئی پالیسی لانے کی تیاری

وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ہنگامی اجلاس، عوام کو ریلیف دینے کا فیصلہ، بچت پر مبنی نئی پالیسی لانے کی تیاری

وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت لاہور میں ملک کی موجودہ معاشی صورتحال اور عالمی کشیدگی کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں اعلیٰ حکومتی حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں شرکا کو حالیہ عالمی صورتحال، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے عالمی معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے وزیراعظم کو بتایا کہ بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث توانائی اور تجارتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان کی معاشی صورتحال پر رپورٹ جاری کر دی

وزیر اعظم نے اس موقع پر ہدایت جاری کی کہ موجودہ حالات کے پیش نظر ایک جامع اور عملی معاشی لائحہ عمل تیار کیا جائے جس کی بنیاد سادگی، بچت اور وسائل کے مؤثر استعمال پر ہو۔ انہوں نے متعلقہ کمیٹی کو ہدایت دی کہ آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر اندر قابل عمل تجاویز پیش کی جائیں تاکہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے اثرات سے ملکی معیشت کو محفوظ رکھا جا سکے۔

وزیر اعظم نے واضح کیا کہ کسی بھی حکمت عملی کی تیاری میں عوامی مفاد کو اولین ترجیح دی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ عوام پر مالی بوجھ کم سے کم پڑے جبکہ ممکنہ حد تک عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

اجلاس میں وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے ہی عالمی کشیدگی کے معاشی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک فعال کمیٹی تشکیل دی تھی جو مسلسل صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور مختلف شعبوں میں ممکنہ خطرات کا اندازہ لگا رہی ہے۔ حکام کے مطابق اسی بروقت اقدامات کی بدولت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی اور کسی قسم کی کمی پیدا نہیں ہونے دی گئی۔

اجلاس میں وزیر اعظم کو یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا گیا وہ اسی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا تھا تاکہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو کم سے کم حد تک عوام تک منتقل کیا جا سکے۔

وزیر اعظم نے کمیٹی کو مزید فعال انداز میں کام کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ جلد از جلد ایسی تجاویز پیش کرے جو عوام کے لیے آسان، قابل عمل اور معیشت کے لیے فائدہ مند ہوں۔

مزید پڑھیں:، خطے کی کشیدہ صورتحال ،حکومت نے کل پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کا بند کمر ہ اجلاس بلالیا

وزیر اعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو پیٹرول پمپ یا کمپنی مصنوعی قلت پیدا کرنے یا ذخیرہ اندوزی میں ملوث پائی گئی اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، اس کا لائسنس منسوخ کیا جائے اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے وزیر خزانہ اور وزیر پیٹرولیم کو خصوصی ہدایت جاری کی کہ وہ ملک کے چاروں صوبوں کا دورہ کریں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر پیٹرولیم مصنوعات کی بچت، مؤثر استعمال اور عوام کو بلاتعطل فراہمی کے لیے جامع منصوبہ بندی تیار کریں۔

حکام کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ موجودہ عالمی حالات کے باوجود ملک میں توانائی اور ایندھن کی فراہمی کو مستحکم رکھا جائے اور عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کی جانب سے سادگی اور بچت پر مبنی حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ آنے والے دنوں میں معیشت کو ممکنہ دباؤ سے بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *