وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور ایران کی حالیہ صورتحال نے عالمی معیشت کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے جبکہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث تیل کی عالمی سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اپنے بیان میں احسن اقبال نے کہا کہ گزشتہ روز وزیرِاعظم نے عالمی قیمتوں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے کو یکسر مسترد کر دیا اور عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ بلاشبہ قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے بوجھ کا باعث بنتا ہے اور حکومت ہمیشہ کوشش کرتی ہے کہ اس بوجھ کو کم سے کم رکھا جائے۔ تاہم موجودہ حالات میں یہ حقیقت بھی ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے اثرات سے مکمل طور پر الگ رہنا ممکن نہیں ہوتا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اپنی ضرورت کا بڑا حصہ تیل اور توانائی کی صورت میں درآمد کرتا ہے۔ جب عالمی سطح پر سپلائی متاثر ہوتی ہے اور قیمتیں بڑھتی ہیں تو درآمدی لاگت میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق اگر اس اضافی لاگت کو مکمل طور پر حکومتی خزانے پر ڈال دیا جائے تو اس کا مطلب مالیاتی خسارے میں اضافہ، ترقیاتی اخراجات میں کمی اور معاشی استحکام پر مزید دباؤ ہوگا۔
احسن اقبال نے کہا کہ مشکل حالات میں بعض فیصلے وقتی طور پر سخت ضرور ہوتے ہیں مگر طویل المدت استحکام کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ متوازن حکمتِ عملی اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے جس میں کمزور طبقات کو ممکنہ حد تک تحفظ فراہم کیا جائے، توانائی کے متبادل ذرائع کو تیزی سے فروغ دیا جائے اور معیشت کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ عالمی جھٹکوں کو بہتر طور پر برداشت کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ غیر معمولی حالات غیر معمولی فیصلوں کا تقاضا کرتے ہیں اور دانشمندانہ پالیسی یہی ہے کہ وقتی مشکلات کو تسلیم کرتے ہوئے ایسے اقدامات کیے جائیں جو معیشت کو بڑے بحران سے محفوظ رکھ سکیں۔