وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئل سیکٹر کو باقاعدہ ضابطوں کے تحت منظم کیا جاتا ہے اور اس پورے نظام میں مختلف عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق تیل کمپنیوں کے لیے کم از کم بیس دن کا ذخیرہ رکھنا ضروری ہوتا ہے، اس لیے ایسا ممکن نہیں کہ آج آرڈر دیا جائے اور اسی دن قیمتوں میں کمی یا اضافہ فوراً نظر آنے لگے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی درآمد کے عمل میں کئی اخراجات شامل ہوتے ہیں جن میں جہاز رانی، انشورنس اور دیگر لاجسٹک معاملات شامل ہیں، تیل کہاں سے آ رہا ہے اور اسے کہاں تک پہنچنا ہے، ان تمام امور کو بھی قیمت کے تعین میں شامل کیا جاتا ہے۔
خرم شہزاد نے کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اٹھاسی سے بڑھ کر ایک سو تیس تک جا پہنچی ہیں، جس کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی پڑتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں آنے والا نیا پیٹرول نئی قیمت کے مطابق درآمد ہوتا ہے۔
انہوں نےکہاکہ یکم مارچ کو جو قیمت مقرر کی گئی تھی وہ گزشتہ پندرہ دن کی اوسط قیمتوں کے مطابق تھی تاہم بعد کے آٹھ دنوں میں عالمی منڈی میں قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا جس کے اثرات بھی سامنے آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ حالات پیش نہ آتے تو ممکن تھا کہ پیٹرول کی قیمت میں کمی کی جاتی، انہوں نے مزید کہا کہ ڈیزل کی اصل قیمت گزشتہ آٹھ دنوں میں76روپے تک بڑھ چکی ہے جبکہ حکومت نے55روپے اضافہ کیا ہے۔
مشیر خزانہ نے بتایا کہ صرف تین دن کے اندر خام تیل کی قیمت میں چھبیس فیصد تک اضافہ ہوا اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بروقت رد و بدل نہ کیا جاتا تو ملک میں ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کا خدشہ پیدا ہو سکتا تھا۔