ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور ایران کے درمیان کشیدہ صورتحال نے عالمی معاشی نظام کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے جس کے اثرات دنیا بھر کے تیل کی منڈیوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیشگی منصوبہ بندی اور انتظامات نہ کیے ہوتے تو آج پیٹرول 375 روپے فی لیٹر ہونا تھا،ان کا کہنا تھا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ تجارتی راستوں کی بندش، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کی صورتحال، عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ کر رہی ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ایسے غیر یقینی حالات میں حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں محدود اضافہ کرنا ایک مشکل مگر ضروری انتظامی فیصلہ تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پچپن پچپن روپے فی لیٹر اضافہ کیا جس کے بعد عوامی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
قبل ازیںوزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آئل سیکٹر کو باقاعدہ ضابطوں کے تحت منظم کیا جاتا ہے اور اس پورے نظام میں مختلف عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق تیل کمپنیوں کے لیے کم از کم بیس دن کا ذخیرہ رکھنا ضروری ہوتا ہے، اس لیے ایسا ممکن نہیں کہ آج آرڈر دیا جائے اور اسی دن قیمتوں میں کمی یا اضافہ فوراً نظر آنے لگے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی درآمد کے عمل میں کئی اخراجات شامل ہوتے ہیں جن میں جہاز رانی، انشورنس اور دیگر لاجسٹک معاملات شامل ہیں، تیل کہاں سے آ رہا ہے اور اسے کہاں تک پہنچنا ہے، ان تمام امور کو بھی قیمت کے تعین میں شامل کیا جاتا ہے۔