نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈارنے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ایران سمیت مختلف عالمی ممالک کے رہنماؤں اور علاقائی تنظیموں کے سربراہان سے ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں تاکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور امن و استحکام کو فروغ دینے کے امکانات پر مشاورت کی جا سکے۔
نائب وزیراعظم نے دولت مشترکہ کی سیکرٹری جنرل شرلی بوچوی سے بھی گفتگو کی اور انہیں آگاہ کیا کہ خطے میں موجودہ صورتحال کے باعث وہ لندن میں منعقد ہونے والے دولت مشترکہ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔
انہوں نے لندن میں موجود پاکستان کے ہائی کمشنر کو ہدایت کی کہ وہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں، اس موقع پر نائب وزیراعظم نے نو مارچ کو منائے جانے والے دولت مشترکہ کے دن کے حوالے سے تمام رکن ممالک کو مبارک باد بھی دی۔
نائب وزیراعظم نے ملائیشیا کے وزیر خارجہ سے بھی رابطہ کیا جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گفتگو کے دوران دونوں ممالک نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں علاقائی امن کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی اور سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
اسی سلسلے میں نائب وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ عبداللہ بن زید النہیان سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی۔
اس موقع پر انہوں نے حالیہ کشیدگی اور خطے میں ہونے والی پیش رفت پر تشویش کا اظہار کیا اور متحدہ عرب امارات کی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی جانب سے مکمل یکجہتی کا پیغام دیا۔
نائب وزیراعظم نے خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرلسے بھی رابطہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے خلیجی خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے اور مشترکہ تعاون کو فروغ دینے کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی، خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل نے خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کی مضبوط شراکت داری کو سراہا۔
بعد ازاں نائب وزیراعظم نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا اور حالیہ علاقائی پیش رفت پر گفتگو کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی مکالمے کو اہم قرار دیا۔دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں بھی قریبی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
وزارت خارجہ کے مطابق تمام رابطوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مکالمے کو فروغ دینا اور باہمی تعاون کو بڑھانا ناگزیر ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ تنازع سے بچا جا سکے اور علاقائی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔