مجلس خبرگان رہبری کے اجلاس کے اتوارکو منعقد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جس میں ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب پر غور کیا جائے گا۔
رکن اسمبلی آیت اللہ مظفری نے کہا ہے کہ مجلس خبرگان کا اجلاس ایک دن کے اندر منعقد ہو سکتا ہے اور اس دوران ملک کی اعلیٰ قیادت کے انتخاب کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق موجودہ سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اجلاس کے انعقاد پر مشاورت جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ غیر یقینی کیفیت سے بچا جا سکے۔
معروف شیعہ مرجع تقلید ناصر مکارم شیرازی نے کہا ہے کہ ملک کے انتظامی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے نئے سپریم لیڈر کا جلد انتخاب ضروری ہے، ان کا کہنا تھا کہ قیادت کا خلا زیادہ دیر تک برقرار رہنا ملکی نظم و نسق کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
اسی طرح حسین نوری ہمدانی نے بھی مجلس خبرگان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قیادت کے جانشین کے انتخاب کے عمل کو تیز کرے تاکہ ملک میں موجود غیر یقینی صورتحال ختم ہو سکے۔
ان دونوں مذہبی شخصیات کی جانب سے ماضی میں جاری کیے گئے بیانات میں دنیا بھر کے مسلمانوں سے بعض واقعات کے بدلے کے حوالے سے جذباتی اپیلیں بھی کی گئی تھیں تاہم ان فتاویٰ کی بین الاقوامی سطح پر مختلف حلقوں میں بحث ہوتی رہی ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر کی عدم موجودگی کی صورت میں عارضی طور پر ایک تین رکنی کونسل انتظامی امور سنبھالتی ہے جس میں صدر، ایک سینئر مذہبی عالم اور عدلیہ کے سربراہ شامل ہوتے ہیں۔