امریکا جنگ میں شدت چاہتا ہےتو ہم نے بھی طویل تیاری کررکھی ہے ،ایرانی وزیر خارجہ

امریکا جنگ میں شدت چاہتا ہےتو ہم نے بھی طویل تیاری کررکھی ہے ،ایرانی وزیر خارجہ

عباس عراقچی نے کہا ہے کہ علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے وہ مسلسل سعودی عرب کے وزیر خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی حکام نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ بنیامین نیتن یاہو نے اپنی عسکری حکمت عملی میں امریکا کو بھی شامل کر لیا ہے حالیہ جنگی صورتحال میں ایک ہفتے کے دوران امریکی فوجی اخراجات تقریباً سو ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا جنگی کارروائیوں میں مزید شدت پیدا کرنا چاہتا ہے تو ایران نے طویل مدت کی جنگ کے لیے پہلے سے تیاری کر رکھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :اسرائیل کی جانب سے ایران جنگ کے اگلے مرحلے کے آغاز کا اعلان

عباس عراقچی نے جزیرہ جزیرہ قشم پر واقع پانی صاف کرنے والے پلانٹ پر مبینہ امریکی حملے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کے نتیجے میں کم از کم تیس دیہات میں پینے کے پانی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جو انسانی بنیادی ضروریات پر اثر انداز ہونے کے مترادف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ملک کے بنیادی انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور ایسے اقدامات سے خطے میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق بنیادی تنصیبات پر حملے انتہائی خطرناک نتائج کا سبب بن سکتے ہیں اور اس سے وسیع تر علاقائی تنازعہ بھی جنم لے سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم  اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور اس کے لیے ضروری سیاسی، سفارتی اور عسکری اقدامات کیے جائیں گے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *