مصر میں جاری ہاکی ورلڈکپ کوالیفائرز کے سنسنی خیز فائنل میں انگلینڈ نے پاکستان کو 1-4 سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ سخت مقابلے پر مشتمل اس میچ میں انگلینڈ کی ٹیم نے بہتر حکمت عملی اور جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو دفاعی دباؤ میں رکھا، تاہم پاکستان نے بھی بھرپور مقابلہ کیا اور کئی مواقع پیدا کئے۔
فائنل میچ کے آغاز سے ہی دونوں ٹیموں نے تیز رفتار کھیل پیش کیا۔ پہلے کوارٹر میں دونوں جانب سے حملے دیکھنے میں آئے مگر کوئی ٹیم گول کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ دوسرے کوارٹر میں انگلینڈ نے میچ پر اپنی گرفت مضبوط بناتے ہوئے پہلا گول سکور کیا اور برتری حاصل کر لی۔
تیسرے کوارٹر میں میچ مزید دلچسپ ہو گیا۔ انگلینڈ نے مزید 2 گول کرکے اپنی برتری کو 0-3 تک بڑھا دیا جس کے بعد پاکستانی ٹیم نے جوابی حملے تیز کر دیے۔ پاکستان کی جانب سے رانا ولید نے شاندار فیلڈ گول سکور کر کے ٹیم کو میچ میں واپس لانے کی کوشش کی اور اسکور 1-3 کر دیا۔ اس گول کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں نے مزید دباؤ بڑھایا لیکن انگلینڈ کی مضبوط دفاعی لائن نے مزید گول نہ ہونے دیا۔
چوتھے اور آخری کوارٹر میں انگلینڈ نے ایک اور گول کر کے اسکور 1-4 کر دیا اور یوں میچ اپنے نام کر لیا۔ انگلینڈ کی جانب سے سیموئیل نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 2 گول کیے جبکہ ہینری اور فوکس نے 1،1 گول سکور کیا۔ پاکستان کی جانب سے واحد گول رانا ولید نے کیا۔
میچ کے دوران انگلینڈ کی ٹیم نے گیند پر زیادہ کنٹرول رکھا اور تیز رفتار پاسنگ کے ذریعے پاکستانی دفاع کو مسلسل دباؤ میں رکھا۔ پاکستانی گول کیپر نے کئی شاندار سیوز کر کے مزید گول ہونے سے بچایا تاہم انگلینڈ کی جارحانہ حکمت عملی کے سامنے پاکستانی دفاع کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اگرچہ پاکستان فائنل میں شکست سے دوچار ہوا، لیکن ٹیم نے پورے ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہوئے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان اور انگلینڈ دونوں ٹیموں نے ہاکی ورلڈکپ کے لیے کوالیفائی کر لیا۔
یہ پاکستان ہاکی ٹیم کے لیے ایک اہم کامیابی بھی ہے کیونکہ قومی ٹیم تقریباً 8 برس بعد ہاکی ورلڈکپ میں ایکشن میں دکھائی دے گی۔ شائقین ہاکی کو امید ہے کہ ورلڈکپ میں پاکستان کی ٹیم بہتر تیاری کے ساتھ میدان میں اترے گی اور ماضی کی شاندار روایات کو دوبارہ زندہ کرے گی۔
ماہرین ہاکی کے مطابق اس ٹورنامنٹ میں نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی نے مستقبل کے لیے مثبت اشارے دیے ہیں اور اگر ٹیم کو مناسب تربیت اور بین الاقوامی مقابلوں کے مواقع ملتے رہے تو پاکستان ہاکی دوبارہ عالمی سطح پر اپنی کھوئی ہوئی پہچان حاصل کر سکتی ہے۔