ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی قیادت نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ کشیدگی اور جھڑپوں کے دوران متعدد امریکی فوجی ایرانی فورسز کی تحویل میں آ گئے ہیں۔ سربراہ ایرانی قومی سلامتی علی لاریجانی نے کہا ہے کہ گزشتہ 1 ہفتے سے جاری لڑائی کے دوران چند امریکی فوجیوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور ایران صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے۔
علی لاریجانی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اپنے غلط اندازوں اور جارحانہ پالیسیوں کے باعث ایک ایسی دلدل میں پھنس چکا ہے جس سے نکلنا اس کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے خطے کی صورتحال کو غلط انداز میں سمجھا اور یہی وجہ ہے کہ اب اسے اپنے اقدامات کی قیمت چکانا پڑے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی قوم مشکلات کے باوجود متحد ہے اور دشمنوں کے خلاف ایک مضبوط دیوار بن چکی ہے۔ ان کے مطابق بیرونی دباؤ، اقتصادی پابندیوں اور عسکری کشیدگی کے باوجود ایرانی عوام اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں اور ملک کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔
علی لاریجانی نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے معاملے پر ایرانی قیادت میں مکمل اتفاق رائے موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی عسکری اور سیاسی قیادت ایک صفحے پر ہے اور قومی سلامتی کے معاملات میں کوئی اختلاف نہیں۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک بخوبی جانتے ہیں کہ امریکا اب عالمی سطح پر سیکیورٹی فراہم کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ ان کے مطابق خطے کے کئی ممالک اس حقیقت کو سمجھ چکے ہیں کہ اپنی سلامتی کے لیے انہیں باہمی تعاون اور علاقائی توازن پر توجہ دینا ہوگی۔
علی لاریجانی نے واضح کیا کہ ایران کو خطے کے ممالک کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں اور تہران ہمیشہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن اور تعاون کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے۔ تاہم اگر کسی ملک کی سرزمین یا امریکی اڈے ایران کے خلاف استعمال ہوئے تو ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہوگا۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے اس اہم سمندری راستے کو بند نہیں کیا، تاہم جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث خطے میں آمد و رفت اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ضرور ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دشمنوں کی جانب سے دباؤ بڑھایا گیا تو ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات بھی کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی کے عالمی معیشت پر بڑے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے دنیا بھر کی نظریں اس وقت خطے کی بدلتی صورتحال پر مرکوز ہیں۔
ادھر ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے میں سفارتی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں اور کئی ممالک دونوں فریقین سے تحمل اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔