ایران میں حالیہ بمباری اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور امریکا اور اسرائیل کی مبینہ جارحیت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں شہریوں نے ایرانی پرچم اٹھا کر اپنی حکومت کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور بیرونی مداخلت کو مسترد کر دیا۔
ایران کے شہر سبزوار میں ہزاروں افراد نے بڑے جلوس کی شکل میں سڑکوں پر مارچ کیا۔ مظاہرین ہاتھوں میں ایرانی پرچم اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے درج تھے۔ شرکا نے بلند آواز میں نعرے لگائے اور کہا کہ وہ اپنے ملک کے دفاع کے لیے متحد ہیں۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ حالیہ فضائی حملوں اور بمباری کے باوجود ایرانی قوم کا حوصلہ بلند ہے اور عوام اپنے ملک کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ کئی مظاہرین نے کہا کہ ایران کی سرزمین پر کسی بھی بیرونی جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
سبزوار کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی عوامی اجتماعات دیکھنے میں آئے جہاں شہریوں نے حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ مشکل حالات میں قوم کو متحد رہنا چاہیے اور بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنا ایران کی روایت نہیں ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ احتجاج میں شریک بعض افراد وہ بھی تھے جو ماضی میں حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک ایرانی شہری نے ایک امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی حکومت کی بعض پالیسیوں سے اختلاف رکھتا ہے اور ماضی میں احتجاج بھی کر چکا ہے، تاہم وہ کسی صورت اپنے ملک میں بیرونی مداخلت برداشت نہیں کر سکتا۔
اس شہری کا کہنا تھا کہ داخلی مسائل اور سیاسی اختلافات ہر ملک میں ہوتے ہیں لیکن ان مسائل کا حل ایرانی عوام خود نکال سکتے ہیں۔ اس نے واضح کیا کہ اگر کسی بیرونی طاقت نے ایران کے معاملات میں مداخلت کی کوشش کی تو قوم متحد ہو کر اس کا مقابلہ کرے گی۔
حکومت کی حمایت میں نکلنے والے مظاہرین نے بھی یہی مؤقف دہرایا کہ ایران کے مستقبل کا فیصلہ صرف ایرانی عوام کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بیرونی طاقت کو ایران کے سیاسی یا داخلی معاملات میں مداخلت کا حق نہیں دیا جائے گا۔
مظاہرین نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ اگر ملک کو درپیش خطرات میں اضافہ ہوا تو عوام اپنی حکومت اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ کئی مظاہرین نے کہا کہ ایران کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ملک کو خطرہ لاحق ہوا، قوم نے اختلافات بھلا کر متحد ہو کر دفاع کیا۔
واضح رہے کہ حالیہ مظاہرے اس بات کی علامت ہیں کہ بیرونی دباؤ کے باوجود ایران کے اندر قومی یکجہتی کا عنصر مضبوط ہو رہا ہے۔ تجزیے کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں اکثر قومیں داخلی اختلافات کو پس پشت ڈال کر بیرونی خطرات کے خلاف متحد ہو جاتی ہیں۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے جبکہ کئی ممالک نے فریقین سے تحمل اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کم کرنے پر زور دیا ہے۔