مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکا کی جانب سے ایران کے افزودہ یورینیم پر قبضہ کرنے کے لیے ممکنہ فوجی کارروائی پر غور کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن ایران کے جوہری مواد کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے خصوصی فوجی دستے بھیجنے کے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس اس وقت تقریباً 450 کلوگرام تک 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود ہے جو عالمی سطح پر جوہری نگرانی کرنے والے اداروں کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ اگر اس یورینیم کو مزید افزودہ کیا جائے تو اسے جوہری ہتھیاروں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اگر واشنگٹن اس یورینیم کو اپنے قبضے میں لینے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے ایران کی سرزمین پر براہ راست کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔ اس ممکنہ کارروائی کے لیے خصوصی تربیت یافتہ فوجی دستوں کے استعمال پر غور کیا جا رہا ہے جو حساس اور تیز رفتار آپریشنز انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ کارروائی صرف امریکا کی جانب سے کی جائے گی یا اس میں اسرائیل بھی شامل ہوگا۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ ایسی کسی بھی کارروائی کے لیے مشترکہ مشن ترتیب دیا جائے جس میں دونوں ممالک کے خصوصی دستے حصہ لیں۔
امریکی حکام کے مطابق اس طرح کی کارروائی صرف اسی صورت میں ممکن ہو سکتی ہے جب خطے میں خطرے کی سطح نسبتاً کم ہو اور آپریشن کے دوران بڑے پیمانے پر تصادم کا خدشہ کم سے کم ہو۔ تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کویت میں موجود امریکی فوجی اڈے اور تنصیبات کو میزائل حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔
پاسداران انقلاب کے مطابق کویت میں واقع عریفجان بیس کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جہاں امریکی افواج کا اہم ہیڈکوارٹر قائم ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ انتہائی درستگی کے ساتھ کیا گیا اور اس کا مقصد خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو پیغام دینا تھا۔
عریفجان بیس کویت میں امریکا کی اہم فوجی تنصیبات میں شمار کیا جاتا ہے جہاں امریکی فوجی لاجسٹک اور کمانڈ سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔ اس بیس کو خطے میں امریکی فوجی آپریشنز کے لیے ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
اس سے قبل ایران کی جانب سے کیے گئے ایک اور حملے میں 2 کویتی فوجی اہلکاروں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ جاں بحق ہونے والے اہلکاروں میں عبداللہ عماد اور میجر فہد عبدالعزیز شامل ہیں۔ کویتی حکام نے ان اہلکاروں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
دوسری طرف امریکی حکام نے اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کویت میں تعینات امریکی فوج کے ایک میجر کی ہلاکت طبعی وجوہات کے باعث ہوئی اور اس کا کسی حملے سے کوئی تعلق نہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پورے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال مزید بگڑی تو اس کے اثرات خطے کے ساتھ ساتھ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔