خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فتنہ الخوارج دہشتگردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے 13 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں صوبے کے 5 مختلف علاقوں میں کی گئیں جن کا مقصد فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں کا خاتمہ اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو مستحکم کرنا تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائیاں بنوں، باجوڑ، ڈیرہ اسماعیل خان، خیبر اور جنوبی وزیرستان میں کی گئیں۔ ان آپریشنز کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے میں مجموعی طور پر 13 دہشتگرد مارے گئے۔
بیان کے مطابق باجوڑ میں ہونے والی کارروائی کے دوران 5 خوارج ہلاک ہوئے۔ سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات ملنے پر دہشتگردوں کے ایک ٹھکانے کو گھیرے میں لیا جہاں فائرنگ کے تبادلے میں دہشتگرد مارے گئے۔
اسی طرح بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں کی جانے والی کارروائیوں میں 3 خوارج کو ہلاک کیا گیا۔ حکام کے مطابق ان علاقوں میں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر فورسز نے فوری کارروائی کی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر آپریشن کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق خیبر اور جنوبی وزیرستان میں بھی دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں جہاں مجموعی طور پر 5 دہشت گرد مارے گئے۔ ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ممکنہ ٹھکانوں کی تلاشی بھی لی اور علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری رکھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے جانے والے دہشتگرد سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں سمیت مختلف دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کی سرگرمیوں کے بارے میں خفیہ اطلاعات موصول ہو رہی تھیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائیوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن بھی جاری رکھا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ دہشتگرد کو فرار ہونے کا موقع نہ مل سکے۔ سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
مقامی حکام کے مطابق ان آپریشنز کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ عوام کی حفاظت کے لئے اضافی اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ خطے میں امن کو یقینی بنایا جا سکے۔