افغانستان میں برسر اقتدار طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان مخالف مظاہروں میں کم عمر بچوں اور مزدور طبقے کے افراد کو استعمال کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس پر ماہرین اور انسانی حقوق کے حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان رجیم اپنی حالیہ مشکلات اور تنقید سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
افغان نشریاتی ادارے آماج نیوز کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے صوبہ غور سمیت متعدد علاقوں میں طالبان حکام کی نگرانی میں پاکستان مخالف مظاہرے کرائے گئے۔ ان مظاہروں میں کم عمر بچوں اور مزدور طبقے کے افراد کو شرکت کے لیے مجبور کیا گیا اور انہیں پاکستان کے خلاف نعرے لگانے کے لیے استعمال کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کئی مقامات پر بچوں کو ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز دے کر سڑکوں پر لایا گیا جبکہ انہیں احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر مجبور کیا گیا۔ بعض مظاہروں میں اسکول جانے کی عمر کے بچوں کو بھی شامل دیکھا گیا جس پر انسانی حقوق کے کارکنوں نے سخت ردعمل دیا ہے۔
واضح رہے کہ طالبان حکومت سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے معاشرے کے کمزور طبقات کو استعمال کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بچوں اور مزدوروں کو سیاسی احتجاج میں شامل کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ افغان طالبان کے اندر موجود شدت پسند عناصر نوجوان نسل کو اپنے نظریاتی بیانیے کے فروغ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں اس طرح کی سرگرمیاں معاشرے میں شدت پسندی کو فروغ دے سکتی ہیں اور آنے والی نسلوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ یہ بھی یاد دلایا گیا کہ کہ ماضی میں بھی افغان طالبان پر ایسے الزامات لگتے رہے ہیں کہ وہ اپنے عسکری اور سیاسی مقاصد کے لیے بچوں کو بطور ڈھال استعمال کرتے رہے ہیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس حوالے سے کئی مرتبہ تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجودہ صورتحال کے باعث طالبان حکومت کو اندرونی اور بیرونی سطح پر مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان مخالف مظاہروں کے ذریعے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق معصوم بچوں کو سیاسی یا نظریاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ایک خطرناک رجحان ہے جو نہ صرف بچوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے معاشرے میں نفرت اور عدم برداشت کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کا نوٹس لے اور بچوں کو سیاسی سرگرمیوں میں زبردستی شامل کرنے کے عمل کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کئے جائیں۔