تعلیمی بورڈز کا بڑا فیصلہ، پریکٹیکل امتحانات کا طریقہ کارمکمل تبدیل، نیا نظام نافذ

تعلیمی بورڈز کا بڑا فیصلہ، پریکٹیکل امتحانات کا طریقہ کارمکمل تبدیل، نیا نظام نافذ

پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز میں ہونے والے پریکٹیکل امتحانات کے نمبرز دینے کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلی کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، جس کے تحت پریکٹیکل نمبرز کو نئے نظام کے مطابق تقسیم کیا جائے گا تاکہ امتحانی عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے اور طلبہ کی حقیقی صلاحیتوں کا درست اندازہ لگایا جاسکے۔

تعلیمی حکام کے مطابق اب طلبہ کے پریکٹیکل نمبرز کو 2 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ پہلے حصے میں تحریری کام شامل ہوگا جسے براہ راست بورڈ کے مرکزی جانچ نظام کے تحت چیک کیا جائے گا، جبکہ دوسرے حصے میں امتحانی مرکز پر موجود ممتحن طلبہ سے زبانی سوالات اور عملی کارکردگی کی بنیاد پر محدود نمبرز دے سکے گا۔

یہ بھی پڑھیں:میٹرک وانٹر کے طلبہ کیلئے بڑی خبر،تعلیمی بورڈز نے نیا ڈیجیٹل نظام متعارف کرا دیا

نئے طریقہ کار کے تحت ممتحن کو صرف مخصوص نمبرز دینے کی اجازت ہوگی جبکہ باقی نمبرز بورڈ کے مرکزی نظام کے ذریعے دیے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ پریکٹیکل امتحانات میں جانبداری یا من پسند نمبرز دینے کے امکانات کو کم کیا جاسکے اور تمام طلبہ کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔

حکام کے مطابق اس نئے نظام کا اطلاق ابتدائی مرحلے میں 4 اہم مضامین کے پریکٹیکل امتحانات میں کیا جائے گا جن میں فزکس، کیمسٹری، حیاتیات اور کمپیوٹر شامل ہیں۔ یہ مضامین سائنس گروپ کے بنیادی مضامین تصور کیے جاتے ہیں اور ان کے پریکٹیکل امتحانات طلبہ کی عملی مہارت جانچنے کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔

تعلیمی بورڈز کے ذرائع کے مطابق یہ پالیسی پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز میں بیک وقت نافذ کی جائے گی تاکہ پورے صوبے میں امتحانی نظام کو یکساں اور شفاف بنایا جاسکے۔ اس حوالے سے امتحانی مراکز کو بھی نئی ہدایات جاری کرنے کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں پریکٹیکل امتحانات کے دوران بعض اوقات شکایات سامنے آتی تھیں کہ طلبہ کو حقیقی کارکردگی کے بغیر بھی زیادہ نمبرز مل جاتے تھے، تاہم نئے نظام کے بعد ایسے امکانات کم ہوجائیں گے کیونکہ تحریری حصہ براہ راست بورڈ کے مرکزی جانچ نظام کے ذریعے جانچا جائے گا۔

مزید پڑھیں:میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے ملتوی ہونےوالے امتحانات کا شیڈول جاری

ماہرین تعلیم کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف امتحانی نظام میں اعتماد بڑھے گا بلکہ طلبہ بھی پریکٹیکل امتحانات کو سنجیدگی سے لینے پر مجبور ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب طلبہ کو بہتر نمبرز حاصل کرنے کے لیے عملی مہارت، تجربات کی درست سمجھ اور زبانی سوالات کے درست جواب دینا ہوں گے۔

تعلیمی حلقوں نے اس فیصلے کو امتحانی نظام میں اصلاحات کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس نظام کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں تعلیمی معیار بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ طلبہ کی عملی صلاحیتوں میں بھی واضح بہتری دیکھنے کو ملے گی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *