امریکی خفیہ اداروں کی ایک مشترکہ خفیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران پر بڑے پیمانے پر فوجی حملے بھی وہاں کی موجودہ حکومت کو ختم کرنے یا قیادت کو ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایران کا سیاسی اور عسکری ڈھانچہ اس قدر مضبوط ہے کہ بیرونی حملوں کے باوجود فوری طور پر نظام کی تبدیلی ممکن نہیں ہوگی۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق 18 خفیہ انٹیلیجنس اداروں کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ وسیع پیمانے پر فضائی اور عسکری کارروائیاں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، تاہم اس سے ایران کی حکومتی ساخت یا قیادت کے خاتمے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران کے اندر سیاسی اور سیکیورٹی اداروں کی جڑیں گہری ہیں اور ان کے درمیان مضبوط روابط موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ تجزیہ نیشنل انٹیلجنس کونسل کے سینیئر ماہرین نے تیار کیا ہے۔ یہ کونسل امریکا کی 18 انٹیلیجنس ایجنسیوں سے حاصل ہونے والی معلومات اور خفیہ رپورٹس کی بنیاد پر اہم عالمی معاملات پر تجزیاتی رپورٹ مرتب کرتی ہے۔ اس رپورٹ کی تیاری کے دوران ایران کی فوجی صلاحیت، داخلی سیاسی ڈھانچہ اور عوامی ردعمل سمیت کئی عوامل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اخبار کے مطابق یہ خفیہ رپورٹ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حالیہ حملوں کے آغاز سے تقریباً ایک ہفتہ قبل مکمل کر لی گئی تھی۔ اس میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کی عسکری قوت اور اس کے اتحادی گروہوں کا علاقائی اثر و رسوخ کسی بھی ممکنہ جنگ کو طویل اور پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے پاس نہ صرف روایتی عسکری طاقت موجود ہے بلکہ خطے میں اس کے اتحادی نیٹ ورک بھی فعال ہیں، جو کسی بڑے تنازع کی صورت میں صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔
امریکی خفیہ اداروں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی بڑی فوجی کارروائی کے سیاسی اور معاشی اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ توانائی کی منڈیوں میں عدم استحکام، عالمی تجارت میں رکاوٹیں اور خطے میں سلامتی کی صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹ نے امریکی پالیسی سازوں کے سامنے ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا ایران کے ساتھ کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے کم کیا جائے یا فوجی دباؤ کی پالیسی کو جاری رکھا جائے۔