کابل میں پاکستانی سفارتخانے کی ویزوں کی بلیک مارکیٹ سے متعلق خبروں کی تردید

کابل میں پاکستانی سفارتخانے کی ویزوں کی بلیک مارکیٹ سے متعلق خبروں کی تردید

کابل میں پاکستانی سفارت خانے نے پاکستانی ویزوں کی بلیک مارکیٹ سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفارت خانہ افغان شہریوں کے لیے منصفانہ اور قابل رسائی ویزا نظام کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

عرب نیوز کی گزشتہ ماہ شائع ہونے والی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ افغان شہری پاکستانی سفری دستاویزات حاصل کرنے کے لیے ٹریول ایجنٹوں سے رجوع کرنے پر مجبور ہیں اور بعض درخواست گزار ویزا حاصل کرنے کے لیے 1300 سے 1800 امریکی ڈالر تک ادا کر رہے ہیں، جبکہ سرکاری ویزا فیس اس سے کہیں کم ہے۔

سفارت خانے کا ایجنٹس سے تعلق نہ ہونے کا مؤقف

کابل میں پاکستانی سفارت خانے نے عرب نیوز کو دیے گئے جواب میں واضح کیا کہ ویزا درخواست گزاروں سے رقم وصول کرنے کے لیے کسی بھی سرکاری ایجنٹ، ثالث یا منسلک ٹریول کمپنی کو اختیار نہیں دیا گیا ہے۔

سفارت خانے کے مطابق ویزا فیس کی سرکاری شرح شائع کی جاتی ہے اور اس کی ادائیگی براہ راست آن لائن کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کی جانی چاہیے۔ سفارت خانے کے پریس کونسلر سید خضر علی نے کہا کہ سفارت خانہ اس بات سے آگاہ ہے کہ بہت سے درخواست گزاروں کے پاس کریڈٹ کارڈ نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے وہ مقامی ایجنٹوں کی مدد لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے افغان بھائیوں کے لیے شفاف، منصفانہ اور قابل رسائی ویزا نظام برقرار رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔

ٹریول ایجنسیوں کے دعوے اور صورتحال

کابل اور ننگرہار میں متعدد ٹریول ایجنسیوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ پاکستانی ویزے مبینہ طور پر بلیک مارکیٹ میں فروخت ہو رہے ہیں اور بعض ایجنسیوں نے پہلے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی۔

ایک ٹریول ایجنسی منیجر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ بعض درخواستیں تین دن کے اندر منظور ہو جاتی ہیں، جس سے ان کے مطابق یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ یہ عمل سفارت خانے کے مکمل کنٹرول میں نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی ایجنسی اکتوبر سے ہر ہفتے درجنوں ویزا درخواستوں پر کام کر رہی ہے، خاص طور پر افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے بعد۔ٹریول ایجنسیوں کے مطابق وہ آن لائن اور اپنی دکانوں پر “ضمانتی میڈیکل اور سیاحتی ویزا” کی خدمات کی تشہیر بھی کرتی ہیں اور بعض ایجنٹ چند دنوں میں ویزا فراہم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، اگرچہ قیمتیں نجی طور پر طے کی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :افغانستان میں زخمی ہونے والوں کو بغیر ویزا پاکستان منتقل کیا جائے،کے پی اسمبلی میں افغانستان میں زلزلے پر قراردادمنظور

پاکستان کا افغان شہریوں کے لیے ویزا فیس تقریباً 25 ڈالر ہے جو مکمل ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ادا کی جاتی ہے، تاہم بعض درخواست گزاروں نے بتایا کہ آن لائن درخواست دینے کے بعد بھی کئی ماہ تک کوئی جواب نہیں ملتا اور بعض درخواستیں خاموشی سے مسترد ہو جاتی ہیں۔

بلیک مارکیٹ کے مبینہ نظام پر دعوے

ایک ٹریول ایجنسی کے ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ویزا درخواستوں کے لیے مبینہ طور پر انتظار کی فہرستیں موجود ہیں جو طیارے کی نشستوں کی طرح منظم کی جاتی ہیں۔

ان کے مطابق جب ایک فہرست مکمل ہو جاتی ہے تو دوسری شروع کی جاتی ہے اور روزانہ ایک نئی فہرست جاری ہوتی ہے، جس کا مطلب ان کے بقول روزانہ ویزا اجرا ہے۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان دنوں ویزا کی قیمت 1300 سے 1800 ڈالر کے درمیان مستحکم ہے اور ایک ماہ سے یہی شرح برقرار ہے۔

سفارت خانے کا مؤقف

پاکستان سفارت خانے نے ان رپورٹس کو بے بنیاد اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نجی ایجنٹوں کی جانب سے اضافی رقم وصول کرنا غیر قانونی اور غیر سرکاری عمل ہے جس پر سفارت خانے کا کوئی کنٹرول نہیں۔ سفارت خانے نے واضح کیا کہ شفاف ویزا نظام کو برقرار رکھنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *