وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغان فریق قابل اعتماد نہیں ، فتنہ الخوارج کو نہیں چھوڑیں گے،جب تک سکیورٹی خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتے، آپریشن جاری رہنا چاہیے
وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں حملے ہوتے رہے ہیں اور شدت پسند گروہ فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بارہا مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم افغانستان کی جانب سے تعاون کی کمی رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان حکومت اور بعض عناصر ماضی میں بھی دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کرتے رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ افغان حکومت اور عوام کے رویے کے بارے میں پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ ماضی، حال اور مستقبل میں ایسے رویے قابل قبول نہیں ہوں گے جو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ بنیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ سفارتی اور مذاکراتی راستے کو ترجیح دی ہے لیکن موجودہ صورتحال کو منطقی انجام تک پہنچانا ضروری ہے۔
بھارت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ براہ راست جنگ کرنے کا تجربہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست دی اور اپنی دفاعی صلاحیت ثابت کی بھارت ہر اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے جس سے پاکستان کو نقصان پہنچے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان سے آنے والے خطرات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا کیونکہ سکیورٹی خطرات کا مکمل خاتمہ ہی قومی مفاد میں ہے، انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے لیے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے اور مستقبل میں بھی سفارتی کوششوں کو جاری رکھا جائے گا، تاہم قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔