اسرائیل سے روابط رکھنے والے افغان لبرل پارٹی کے بانی اجمل سہیل انٹیلی جنس تجزیہ کار نہیں
دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ میں غلط بیانی سامنے آ گئی ،جنوبی ایشیا کے امور کی ایڈیٹر سُدھا رام چندرن نے جریدے دی ڈپلومیٹ کے لیے ایک انٹرویو میں اجمل سہیل کو انٹیلی جنس تجزیہ کار کے طور پر پیش کیا، جس میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی ، چین اور شدت پسند گروہ اسلامک اسٹیٹ خراسان پرووِننس کے حوالے سے بات کی گئی۔
انٹرویو میں اجمل سہیل کو افغان لبرل سیاست سے وابستہ پس منظر کے حوالے سے مکمل طور پر ذکر نہیں کیا گیا، حالانکہ وہ افغان لبرل پارٹی کے بانی ہیں، اس تنظیم کو افغانستان میں سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے اور مختلف سیاسی شخصیات کو بھرتی کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
اجمل سہیل کا اصل تعارف ایک سیاسی شخصیت کے طور پر سامنے آتا ہے کیونکہ وہ افغان لبرل پارٹی کے بانی ہیں ان کے سیاسی پس منظر اور وابستگیوں کا ذکر کیے بغیر انہیں صرف انٹیلی جنس تجزیہ کار کے طور پر پیش کرنا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔اجمل سہیل ماضی میں اسرائیل کے ساتھ افغانستان کے ممکنہ تعلقات اور تعاون کے حوالے سے بیانات بھی دے چکے ہیں
اجمل سہیل کا تعلق میتویم انسٹی ٹیوٹ فار ریجنل فارن پالیسی کے ساتھ بھی رہا ہے، جہاں انہوں نے علاقائی امور پر ایک انٹرویو دیا تھا۔ انٹرویو میں علاقائی سلامتی اور خاص طور پر خراسان خطے میں سرگرم شدت پسند گروہوں کے حوالے سے تجزیے پیش کیے گئے۔
انٹرویو میں پاکستان، چین اور علاقائی سلامتی کے موضوعات پر گفتگو کی گئی، جس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ خطے میں سکیورٹی صورتحال پیچیدہ ہے اور مختلف انٹیلی جنس عوامل اس پر اثرانداز ہو سکتے ہیں انٹرویو میں علاقائی سکیورٹی اور شدت پسند گروہوں کے بارے میں مکمل زمینی حقیقت کو شامل نہیں کیا گیا۔
حقیقت کو مسخ کرنے پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کرنے کی ناکام کی کوشش کی گئی ،دی ڈپلومیٹ نے اپنی رپورٹ میں حقائق کو مکمل طور پر نظر انداز کیا اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم حقائق واضح ہیں اجمل سہیل کا تعلقاجمل سہیل کا اصل تعارف ایک سیاسی شخصیت کے طور پر سامنے آتا ہے کیونکہ وہ افغان لبرل پارٹی کے بانی ہیں
جس سے یہ واضح ہوگیا کہ دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ میں سراسر غلط بیانی کی گئی ہے،علاقائی معاملات پر بحث کرتے وقت متوازن اور حقائق پر مبنی تجزیے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ کسی بھی ملک یا ادارے کے بارے میں غیر ضروری تنازع پیدا نہ ہو تاہم دی ڈپلومیٹ نے اس بات کو مدنظر نہیں رکھا اور اپنی رپورٹ میں سراسر غلط بیانی سے کام لیا ہے ۔