وفاقی حکومت نے عالمی توانائی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر ملک میں ایندھن کی صورتحال پر کڑی نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔ اس حوالے سے ہونے والے اجلاس میں حکام نے بتایا کہ متبادل سپلائی اور ذخائر برقرار رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت عالمی توانائی منڈیوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور قیمتوں کے ممکنہ مالی اثرات سے نمٹنے کے لیے متبادل منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ ایندھن کی بچت کے اقدامات ضروری ہیں تاکہ موجودہ ذخائر زیادہ دیر تک برقرار رہ سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ پٹرول کے تین جہاز آج پاکستان پہنچنے کی توقع ہے جس سے سپلائی میں بہتری آئے گی۔
اجلاس میں پیٹرول پمپوں پر ممکنہ ذخیرہ اندوزی کے خدشات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام کے مطابق ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطہ مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ قطر کے اعلان کے بعد ایل این جی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، تاہم ذخائر کی نگرانی کے لیے صوبوں کے ساتھ مشترکہ ڈیش بورڈ تیار کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ عمان، سعودی عرب اور یو اے ای سے متبادل ایندھن سپلائی کے لیے رابطے جاری ہیں، جبکہ دیگر راستوں سے تیل کی فراہمی یقینی بنانے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق آئی ایم ایف سے پیٹرولیم لیوی میں ممکنہ ریلیف کے لیے درخواست کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ اجلاس میں توانائی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مسلسل رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
مزید پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سے عالمی معیشت کو خطرات لاحق ہیں ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر اثرات کا حصہ ہے: احسن اقبال