تہران کی ریفائنریز اور تیل کے ذخائر پر ہونے والے حملوں کے چند ہی گھنٹوں بعد، ایران نے اپنی دفاعی تاریخ کا سب سے بڑا اور شدید جوابی وار کرتے ہوئے تل ابیب پر میزائلوں کی بارش کردی۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل کے اقتصادی اور فوجی مرکز تل ابیب کو سینکڑوں بیلسٹک اور ہائپر سونک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے اور میزائلوں کے گرنے اور اسرائیل کے دفاعی نظام ‘آئرن ڈوم’ کے ناکام ہونے کے بعد ہونے والے دھماکوں نے تل ابیب کی رات کو دن کے اجالے میں بدل دیا ہے۔
تہران سے داغے گئے میزائلوں نے ریکارڈ وقت میں اسرائیلی فضائی حدود کو عبور کیا۔ تل ابیب کے اسٹریٹجک مقامات، بشمول فوجی ہیڈ کوارٹرز اور توانائی کی تنصیبات، دھماکوں سے لرز اٹھے۔ اگرچہ اسرائیل کا ‘آیرو’ اور ‘ڈیوڈ سلنگ’ سسٹم فعال تھا، لیکن میزائلوں کی بڑی تعداد اور ان کی تیز رفتاری نے دفاعی حصار کو کئی مقامات پر توڑ دیا۔
تل ابیب میں سائرن بجتے ہی لاکھوں افراد نے بنکرز میں پناہ لی، جبکہ شہر کے کئی حصوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی اور آگ کے بلند شعلے دور دور سے دیکھے جا سکتے ہیں۔
ایرانی حکام نے اس حملے کو “وعدہ صادق” کے اگلے مرحلے کا نام دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تہران میں ہونے والی “تیل کی بارش” اور معاشی دہشت گردی کا براہِ راست جواب ہے۔ ایرانی صدر کے بیان کے مطابق، یہ صرف آغاز ہے اور اگر دشمن نے مزید مہم جوئی کی تو اگلا ہدف اسرائیل کا تمام تر بنیادی ڈھانچہ ہوگا۔
تہران کی ریفائنریز سے اٹھنے والا دھواں اب تل ابیب کی عمارتوں سے اٹھ رہا ہے۔ یہ “آنکھ کے بدلے آنکھ” کی پالیسی مشرقِ وسطیٰ کو ایک ایسی ہمہ گیر جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے جس کے اثرات سے پوری دنیا متاثر ہوگی۔
ایران کے میزائل حملہ کے بعد تل ابیب شہر کے بڑے حصے میں اچانک اندھیرا چھا گیا کیونکہ مبینہ طور پر پاور اسٹیشنز، توانائی کی سہولیات اور ریفائنریز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایرانی صدر کا دو ٹوک پیغام: “کسی بھی ملک کی سرزمین سے حملہ ہوا تو جواب دینا ہمارا جائز حق ہے”

