خیبرپختونخوا میں مالی اختیارات کے معاملے پر محکمہ خزانہ اور اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کے درمیان تنازع شدت اختیار کرگیا ہے۔ محکمہ خزانہ سے منتقل کیے گئے اختیارات واپس لینے کے لیے صوبائی فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2022 میں ترمیم کا بل صوبائی کابینہ سے منظوری کے باوجود ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود صوبائی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جاسکا۔
ذرائع کے مطابق 2022 میں اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کے ایک افسر اس وقت محکمہ خزانہ میں ڈیپوٹیشن پر تعینات تھے۔ اسی دوران انہوں نے صوبائی فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2022 میں لابنگ کرکے ایسی ترمیم متعارف کرائیں جس کے نتیجے میں کئی اہم مالی اختیارات محکمہ خزانہ سے منتقل ہو کر اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کے پاس چلے گئے۔
حیران کن طور پر اس وقت کے سیکرٹری خزانہ بھی ان ترامیم کے حامی بن گئے۔ ذرائع کے مطابق ان تبدیلیوں کو تکنیکی انداز میں فنانس بل کا حصہ بنا کر منظور کروایا گیا تاکہ یہ معاملہ زیادہ توجہ حاصل نہ کرسکے۔ محکمہ خزانہ کے ریگولیشن ونگ نے ان ترمیم پر اس وقت اعتراض بھی اٹھایا تھا تاہم اسے نظر انداز کردیا گیا۔
کون سے اختیارات منتقل ہوئے؟
ایکٹ میں ترمیم کے بعد صورت حال یہ ہوگئی کہ اگر محکمہ خزانہ کسی بل کی منظوری دے بھی دے تو بھی اس کی حتمی منظوری اکاؤنٹنٹ جنرل آفس سے مشروط ہوگئی۔ یعنی جب تک اے جی آفس منظوری نہ دے، بل کلیئر نہیں ہوتا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وفاق میں یہ اختیارات فنانس ڈویژن جبکہ ملک کے دیگر صوبوں میں یہ اختیار براہِ راست محکمہ خزانہ کے پاس ہوتا ہے۔
ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ افسران کی تعیناتی پر تنازع
بعد ازاں رولز میں بھی ترمیم کی گئی جس کے تحت صوبے کے تمام اضلاع میں تعینات ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ افسران کی پوسٹوں میں سے 50 فیصد حصہ اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کو دے دیا گیا۔
ان پوسٹوں پر اے جی آفس اپنے ملازمین کو ڈیپوٹیشن پر تعینات کرتا ہے اور یہ عمل محکمہ خزانہ کی مشاورت کے بغیر کیا جاتا ہے۔ جبکہ ڈیوپٹیشن پر تعیناتی کا باقاعدہ طریقہ کار وضع ہے کہ کس افسر کو کن بنیادوں پر تعینات کیا جاسکتا ہے، پہلے اس افیسر کی تعینیاتی کیلئے ریکوزیشن کرنا ہوتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ جس پوسٹ پر افیسر کو تعینات کیا جانا ہوتا ہے تو اس پوسٹ سے متعلق تعلیم کو بھی مد نظر رکھا جاتا ہے۔
تمام ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ افسران کی تنخواہیں صوبائی حکومت ادا کرتی ہے لیکن وہ محکمہ خزانہ کو جوابدہ نہیں ہوتے، جس کے باعث محکمہ خزانہ کے اپنے افسران کے لیے مسائل پیدا ہوگئے ہیں اور ان کی ترقیوں کا عمل بھی متاثر ہوا ہے۔
ترمیمی بل کی منظوری میں تاخیر
محکمہ خزانہ نے ان اختیارات کو واپس لینے کے لیے دوبارہ ایک ترمیمی مسودہ تیار کیا جسے جنوری 2025 میں صوبائی کابینہ نے منظور بھی کرلیا۔ تاہم ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ ترمیمی بل تاحال صوبائی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جاسکا۔
آڈٹ کے نظام پر سوالات
بیشتر سنیئر افیسرز نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس صورتحال نے آڈٹ کے نظام پر بھی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ عام طور پر صوبائی حکومت کے اخراجات کا آڈٹ آڈیٹر جنرل کا دفتر کرتا ہے اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
لیکن موجودہ نظام میں وہی ملازمین جو مالی امور میں براہِ راست کردار ادا کرتے ہیں، بعد میں انہی فنڈز کے آڈٹ کے عمل میں بھی شامل ہوجاتے ہیں، جس سے شفافیت کے حوالے سے خدشات پیدا ہورہے ہیں۔
اس بابت سیکرٹری خزانہ کامران افریدی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ایکٹ اسمبلی میں پیش ہونا باقی ہے تاہم مزید سوالوں کے جواب نہیں دئیے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت ہمارا فرض ہے ، وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی

