ایران کی داخلی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال میں ایک تاریخی موڑ آ گیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا اور بااثر حلقوں کی جانب سے دی گئی اطلاعات کے مطابق، آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر (رہبرِ معظم) مقرر کر دیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی ایک ایسے نازک وقت میں ہوئی ہے جب ایران علاقائی جنگ اور اندرونی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای، جو سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے ہیں، طویل عرصے سے پسِ پردہ ایرانی سیاست اور عسکری معاملات میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان کی تقرری کے حوالے سے درج ذیل پہلو انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کے پاسدارانِ انقلاب اور انٹیلی جنس بیورو کے ساتھ گہرے مراسم ہیں۔ ان کی قیادت میں ایران کے دفاعی اور جارحانہ نظام (خاص طور پر میزائل پروگرام) میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری ایران کے موجودہ نظریاتی نظام کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خلا سے بچا جا سکے۔
انہیں ایران کے قدامت پسند اور سخت گیر دھڑے کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے، جو مغرب اور اسرائیل کے حوالے سے کسی بھی سمجھوتے کے خلاف ہیں۔ ایران کے آئین کے تحت سپریم لیڈر کا انتخاب ‘مجلسِ خبرگان’ کرتی ہے، جو 88 جید علما پر مشتمل ایک بااختیار ادارہ ہے۔
حالیہ بحرانی صورتحال اور تہران پر ہونے والے حملوں کے بعد اس ادارے نے ہنگامی بنیادوں پر مجتبیٰ خامنہ ای کے نام پر اتفاق کیا تاکہ ملک میں قیادت کے حوالے سے کوئی ابہام باقی نہ رہے۔ تل ابیب پر حالیہ میزائل حملوں کے فوراً بعد قیادت کی یہ منتقلی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ایران اپنی ‘مزاحمتی پالیسی’ (Axis of Resistance) سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
پڑوسی ممالک اس تبدیلی کو بڑی گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں ایران کی علاقائی مداخلت یا تعاون کا نیا رخ سامنے آ سکتا ہے۔ قیادت کی تبدیلی اور جاری جنگ کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔