ایران پر حملے کے بعد امریکا کو کتنا نقصان؟ ابتدائی تفصیلات سامنے آگئیں

ایران پر حملے کے بعد امریکا کو کتنا نقصان؟ ابتدائی تفصیلات سامنے آگئیں

ایران کی جانب سے حملوں میں امریکا کو اب تک تقریباً 2 ارب ڈالر مالیت کے فوجی ساز و سامان کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

مالی نقصان کی سب سے بڑی وجہ قطر کے العدید ایئر بیس پر نصب امریکی ‘AN/FPS132’ ارلی وارننگ ریڈار سسٹم ہے، جس کی مالیت 1.1 ارب ڈالر ہے۔ ہفتے کے روز ایران کے میزائل حملے میں یہ سسٹم نشانہ بنا، جس کی تصدیق قطری حکام نے بھی کی ہے۔

کویتی فضائی دفاعی نظام کی مبینہ غلطی (فرینڈلی فائر) کے نتیجے میں 3 امریکی ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل طیارے تباہ ہو گئے۔ اگرچہ عملے کے تمام چھ ارکان محفوظ رہے، تاہم ان طیاروں کی تبدیلی پر 282 ملین ڈالر لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

ہفتے کے روز اپنے ابتدائی جوابی حملے میں ایران نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے (Fifth Fleet) کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا، جس سے دو سیٹلائٹ کمیونیکیشن ٹرمینلز اور کئی بڑی عمارتیں تباہ ہو گئیں۔اوپن سورس انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ان ٹرمینلز کی مالیت تنصیب کے اخراجات سمیت تقریباً 20 ملین ڈالر ہے۔

دفاعی ذرائع اور سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کے مطابق، ایران نے ہائپر سونک اور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں سے حملے کی منصوبہ بندی یا معاونت کی گئی تھی۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق، اردن اور قطر میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر نصب جدید ترین ‘تھاڈ’ (THAAD) ریڈار سسٹم اور ارلی وارننگ ریڈارز کو شدید نقصان پہنچا ہے، جن کی مالیت اربوں ڈالر بتائی جاتی ہے۔

ان سسٹمز کی تباہی نے خطے میں امریکی فضائی دفاعی حصار میں بڑے شگاف ڈال دیے ہیں، جس کی بحالی میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:ایران کے اندر امریکا اوراسرائیل کا نیا خوفناک منصوبہ سامنے آگیا، علاقائی صورتحال مزید کشیدہ

امریکی پینٹاگون کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ میزائل حملوں کے باعث متعدد کمیونیکیشن سینٹرز اور جاسوسی آلات بھی ناکارہ ہو گئے ہیں، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔

عالمی ماہرینِ دفاع کا ماننا ہے کہ امریکہ کے لیے اصل نقصان صرف مالی نہیں بلکہ اس کی ناقابلِ تسخیر دفاعی ٹیکنالوجی کے وقار کو پہنچنے والی ٹھیس ہے، کیونکہ ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ دنیا کے مہنگے ترین دفاعی سسٹمز کو بھی کامیابی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔
اس صورتحال نے خطے میں موجود دیگر امریکی اتحادیوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جو اپنی سیکیورٹی کے لیے انہی سسٹمز پر انحصار کرتے ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *