وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاتارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں کسی بھی شہری علاقے کو نشانہ نہیں بنایا، پاکستان افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہا ہے اور ان کارروائیوں میں صرف دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے اور ان کے معاون نظام کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔
غیر ملکی جرائد کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے اعداد و شمار حقیقت پر مبنی نہیں اور سنجیدہ تبصرے کے بھی قابل نہیں۔
عطا تارڑ نے افغان وزارت دفاع کے ترجمان کی جانب سے پاکستان کے خلاف میدان جنگ میں کامیابیوں کے دعوؤں کو محض پروپیگنڈا قرار دیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے افغان طالبان رجیم اور اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کی طرف سے افغان شہریوں کی ہلاکتوں کی خبر کی بھی تردید کرتے کہا کہ کابل میں قائم اقوام متحدہ کی ایجنسی کی ان معلومات کا مکمل انحصار طالبان حکومت پر ہے۔
انہوں نےکہا کہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی جانب سے مل کر حملے کرنا اس بات کی تصدیق ہے کہ افغان طالبان حکومت اور افغانستان کی سرزمین سے سرگرم متعدد دہشت گرد تنظیموں کے درمیان گٹھ جوڑ موجود ہے۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ افغان طالبان رجیم کے تمام حملوں کا فوری اور موثر انداز میں جواب دیا گیا، پاکستان نے دہشت گردوں اور ان کے معاونین بشمول افغان طالبان کے فوجی اڈوں کو درست طریقے سے نشانہ بنایا۔