بنگلہ دیش میں تمام یونیورسٹیاں غیر معینہ مدت تک بند، وجہ سامنے آگئی

بنگلہ دیش میں تمام یونیورسٹیاں غیر معینہ مدت تک بند، وجہ سامنے آگئی

بنگلہ دیش کی حکومت نے بڑھتے ہوئے توانائی بحران کے باعث ملک بھر کی تمام جامعات کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومتی اعلان کے مطابق یہ فیصلہ آج 9 مارچ سے نافذ العمل ہو گیا ہے جس کے تحت سرکاری اور نجی دونوں تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت نے یہ غیر معمولی قدم ملک میں بجلی اور ایندھن کی بچت کے لیے اٹھایا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں روزانہ بڑی مقدار میں بجلی استعمال ہوتی ہے، اس لیے جامعات کو بند کر کے توانائی کے استعمال میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات گہرے ہونے لگے، پاکستان میں تیل کے بعد ادویات، بچوں کا فارمولا دودھ، ویکسینز کی قیمتیں بھی زد میں آگئیں

حکومت نے اس فیصلے کے ساتھ ہی عیدالفطر کی تعطیلات کو بھی قبل از وقت شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ طلبہ اور اساتذہ کو تعلیمی سرگرمیوں کی بندش کے دوران کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ تعلیمی اداروں کی بندش کے دوران آن لائن تدریسی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ تعلیمی عمل مکمل طور پر متاثر نہ ہو۔

رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے جس کے اثرات بنگلہ دیش سمیت کئی ترقی پذیر ممالک تک پہنچ رہے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بنگلہ دیش میں ایندھن کی درآمد مہنگی ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں بجلی پیدا کرنے کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ اسی صورتحال کے پیش نظر توانائی کے استعمال کو محدود کرنے کیلئے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں جن میں سرکاری دفاتر کے اوقات کار میں تبدیلی اور غیر ضروری بجلی کے استعمال پر پابندیاں بھی شامل ہیں۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی جلد ختم نہ ہوئی تو عالمی توانائی منڈی مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا کے ممالک کو توانائی کی قلت اور مہنگائی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق بنگلہ دیش جیسے ممالک جو بڑی حد تک درآمدی ایندھن پر انحصار کرتے ہیں، وہ عالمی توانائی بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف صنعتی پیداوار کو متاثر کرتی ہیں بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی زندگی کے اخراجات میں اضافہ کا باعث بنتی ہیں۔

مزید پڑھیں:ایران کے نئے سپریم لیڈرکی شخصیت کے اہم پہلو کون سے؟سیاست کتنی جانتے؟حکومتی امور چلانے کی قابلیت کتنی؟اہم تفصیلات

تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ جامعات کی بندش اگر طویل عرصے تک جاری رہی تو اس کے تعلیمی نظام پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم حکام کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں توانائی بچانے کے لیے یہ اقدام ناگزیر تھا اور صورتحال بہتر ہوتے ہی تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ بحال کر دی جائیں گی۔

واضح رہے کہ موجودہ عالمی حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ توانائی کے متبادل ذرائع اور مقامی وسائل کی ترقی پر توجہ دینا اب پہلے سے زیادہ ضروری ہو چکا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے بحرانوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *