ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات اور اداروں کی ساکھ متاثر کرنے سے متعلق مقدمے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
مقدمے کی سماعت سینیئر سول جج عباس شاہ کی عدالت میں ہوئی۔ سماعت کے دوران ملزم سہیل آفریدی عدالت میں پیش نہ ہوئے جس پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مسلسل عدم پیشی عدالتی کارروائی میں رکاوٹ کے مترادف ہے۔
عدالت نے حکم جاری کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ملزم کی عدالت میں حاضری یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ مقدمے کی کارروائی آگے بڑھائی جا سکے۔
سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزم کے خلاف ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات عائد کرنے اور ان کی ساکھ متاثر کرنے کے شواہد موجود ہیں۔ اسی بنیاد پر ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی گئی ہے۔
عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 26 مارچ تک ملتوی کر دی ہے اور آئندہ سماعت پر ملزم کی حاضری یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔ اگر آئندہ سماعت تک ملزم عدالت کے سامنے پیش نہ ہوئے تو مزید قانونی اقدامات بھی زیر غور آ سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ سہیل آفریدی کے خلاف پیکا قانون کے تحت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ اس مقدمے میں ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے مختلف بیانات اور پیغامات کے ذریعے ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگائے اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
واضح رہے کہ پیکا قانون کے تحت ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات پھیلانے یا ان کی ساکھ کو متاثر کرنے پر سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ایسے مقدمات میں عدالتیں ملزم کی حاضری کو انتہائی اہم قرار دیتی ہیں۔
سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کے خلاف جاری مقدمہ ملکی سیاست میں نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق آئندہ سماعت اس مقدمے کے مستقبل کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔