انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے رہائشی علاقوں پر حملوں میں سفید فاسفورس کے گولے استعمال کیے جو عالمی قوانین کے تحت غیر قانونی اور انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے قصبے یوحمر میں شہری آبادی پر سفید فاسفورس کے گولے استعمال کیے جو عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر اور ویڈیوز کا کا جائزہ لیا جس میں یوحمر کے رہائشی علاقے میں سفید فاسفورس کے گولے فضا میں پھٹتے دکھائی دیے۔
رپورٹ کے مطابق ان حملوں کے بعد بننے والے دھوئیں کے بادل کی شکل امریکی ساختہ ایم 825 سیریز کے 155 ملی میٹر آرٹلری گولے سے مطابقت رکھتی ہے جس میں سفید فاسفورس موجود ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سفید فاسفورس ایک ایسا کیمیائی مادہ ہے جو آکسیجن کے ساتھ رابطے میں آتے ہی بھڑک اٹھتا ہے، اسے جنگی میدان میں دھواں پیدا کرنے یا روشنی فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم یہ آتش گیر ہتھیار کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے اور شدید آگ، خطرناک جھلساؤ، سانس کے مسائل، اعضا کے ناکارہ ہونے اور حتیٰ کہ موت کا سبب بن سکتا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیل پہلے ہی اکتوبر 2023 اور مئی 2024 کے درمیان جنوبی لبنان کے سرحدی دیہاتوں میں سفید فاسفورس کا استعمال کر چکا ہے، جس سے شہریوں کو شدید خطرات لاحق ہیں، سفید فاسفورس انسانی گوشت اور ہڈیوں کو جلا سکتا ہے اور عمارتوں کو آگ لگا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ جس روز اسرائیل نے اس علاقے پر حملہ کیا تھا اسی روز اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائے ادرعی نے یوحمر اور دیگر تقریباً 50 دیہات اور قصبوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر گھروں سے ایک ہزار میٹر دور کھلے علاقوں میں منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی تھی۔
ہیومن رائٹس واچ نے امریکا، برطانیہ اور جرمنی سمیت اسرائیل کے اتحادی ممالک سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو فوجی امداد اور اسلحہ کی فروخت معطل کریں اور مبینہ سنگین جرائم میں ملوث حکام پر پابندیاں عائد کریں۔