عباس عراقچی کا امریکہ کو انتباہ: “ایران ایک بھیانک خواب بن چکا، ابھی بہت سے سرپرائز باقی ہیں”

عباس عراقچی کا امریکہ کو انتباہ: “ایران ایک بھیانک خواب بن چکا، ابھی بہت سے سرپرائز باقی ہیں”

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے تہران پر حالیہ امریکی و اسرائیلی حملوں اور اس کے بعد ایران کے بھرپور جوابی وار کے تناظر میں ایک انتہائی سخت بیان جاری کیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق، وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واشنگٹن کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی علاقائی مہم جوئی نے اسے ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیا ہے جہاں ایران اس کے لیے ایک “بھیانک خواب” ثابت ہو رہا ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے واشنگٹن اور تل ابیب کو مزید تزویراتی دباؤ میں لاتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس ابھی بہت سے ایسے “سرپرائز” موجود ہیں جو ضرورت پڑنے پر ظاہر کیے جائیں گے۔ ان کا یہ اشارہ ایران کی جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی، ڈرون صلاحیتوں اور خطے میں موجود مزاحمتی نیٹ ورک کی طرف تھا، جسے ایران اب تک مکمل طور پر استعمال نہیں کر رہا۔

عراقچی نے کہا کہ امریکی حکام کا خیال تھا کہ وہ ایران کی اقتصادی اور دفاعی ریڑھ کی ہڈی توڑ دیں گے، لیکن تل ابیب پر میزائلوں کی بارش نے ثابت کر دیا کہ ایران کا دفاع پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق “سرپرائزز” سے مراد ایران کے نئے ہائپر سونک میزائل یا ایسی الیکٹرانک وارفیئر ٹیکنالوجی ہو سکتی ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی بحری بیڑوں اور دفاعی سسٹمز کو مکمل طور پر مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

مزید پڑھیں: ترکیہ ایران جنگ سے دور رہنا چاہتا ہے، کسی شہری کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے: صدر طیب اردوان

انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی معاندانہ پالیسیاں جاری رکھیں تو اسے خطے سے اپنی واپسی کا وہ منظر دیکھنا پڑے گا جو افغانستان سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوگا۔ عباس عراقچی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران میں نئی قیادت (مجتبیٰ خامنہ ای) نے چارج سنبھالا ہے اور ایرانی فوج ‘بسیج’ کے ساتھ مل کر ہائی الرٹ پر ہے۔

یہ بیان دراصل دشمن کی صفوں میں بے یقینی پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے تاکہ وہ مزید حملے کرنے سے پہلے دس بار سوچے۔ ایران یہ باور کروا رہا ہے کہ اس نے ابھی تک اپنی تمام تر طاقت کا مظاہرہ نہیں کیا اور اس کے ترکش میں اب بھی ایسے تیر موجود ہیں جو کسی بھی جدید دفاعی ڈھال کو توڑ سکتے ہیں۔

جہاں ایک طرف واشنگٹن “آپریشن ایپک فیوری” پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے، وہیں عباس عراقچی کے اس انتباہ نے امریکی ایوانوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کہ کہیں ایران کوئی ایسا غیر متوقع قدم نہ اٹھا لے جو جنگ کا پانسہ ہی پلٹ دے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *