روسی صدر ویلادیمیر پیوٹن نے صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کو فوری طور پر ختم کرنے کے لیے ایک ٹھوس اور جامع تجاویز پیش کر دی ہیں۔
روسی ایوانِ صدر (کریملن) کے مطابق، پیوٹن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ طاقت کا استعمال عالمی توانائی کے بحران کو سنگین بنا چکا ہے اور اب وقت ہے کہ سفارت کاری کو موقع دیا جائے۔ روسی صدر نے واضح کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو آگ لگا دی ہے۔
اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ پوتن اور ٹرمپ کے درمیان اس اتفاقِ رائے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے اور پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں مہنگائی کا بوجھ کم ہو سکتا ہے۔
ایک اہم سفارتی پیش رفت میں صدر پیوٹن نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ پیوٹن نے اپنے پیغام میں ایرانی قوم کے اتحاد اور وقار کو سراہتے ہوئے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دینے کا پختہ ارادہ ظاہر کیا، جو خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ہے۔
رابطے کے دوران صرف ایران ہی نہیں بلکہ یوکرین اور وینزویلا کی صورتحال پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ اور پیوٹن ایک ایسے بڑے عالمی معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں جس سے برسوں سے جاری یوکرین جنگ کا خاتمہ بھی ممکن ہو جائے گا۔
مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ کا بڑا دعویٰ: “ایران کے خلاف جنگ خاتمے کے قریب ہے”

