پاکستان میں تیز رفتار انٹرنیٹ کے نئے دور کا آغاز ہونے جا رہا ہے، کیونکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) آج 5جی اسپیکٹرم کی نیلامی کرے گی۔ نیلامی کے بعد اسلام آباد، لاہور اور کراچی سمیت بڑے شہروں میں جلد فائیو جی سروس متعارف کرائے جانے کا امکان ہے، جبکہ ملک بھر میں فور جی سروسز کے معیار میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کیلئے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور اس مقصد کیلئے 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم نیلامی کیلئے پیش کیا جائے گا۔ آکشن کا عمل لائیو نشر کیا جائے گا اور شفافیت یقینی بنانے کیلئے جدید سافٹ ویئر استعمال کیا جائے گا۔ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کی موجودگی میں سافٹ ویئر کی ٹیسٹنگ کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کیلئے رائٹ آف وے کی فیس 3600 روپے سے کم کر کے صفر کر دی گئی ہے۔ اس وقت ملک میں 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم دستیاب ہے جبکہ آپریٹرز کیلئے نیلامی میں کم از کم 100 میگا ہرٹز اسپیکٹرم خریدنے کی شرط رکھی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:میٹرک میں ناکام طالبعلموں کیلئے بڑی خوشخبری،حکومت نے خصوصی ریلیف دے دیا
اتھارٹی کے مطابق کوالٹی آف سروس بہتر بنانے کیلئے لائسنس ٹیمپلیٹ اور آپریشنل شرائط میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ پریمیم سروسز کیلئے اپ لنک اسپیڈ کو ڈاؤن لنک اسپیڈ کے 25 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کر دیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق فائیو جی کیلئے کم از کم ڈاؤن لنک اسپیڈ 50 ایم بی پی ایس مقرر کی گئی ہے جبکہ فور جی صارفین کیلئے کم از کم رفتار کو 4 ایم بی پی ایس سے بڑھا کر 20 ایم بی پی ایس تک کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ کامیاب ٹیلی کام کمپنیوں کو ہر سال کم از کم ایک ہزار نئی سائٹس نصب کرنے کی پابندی ہوگی جن میں سے 20 فیصد سائٹس نئے مقامات پر لگانا لازمی ہوگا۔
حکومت نے 700، 1800، 2100، 2300، 2600 اور 3500 میگا ہرٹز بینڈز میں مجموعی طور پر تقریباً 597 میگا ہرٹز اسپیکٹرم نیلامی کیلئے پیش کیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں فائیو جی سروسز اسلام آباد اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں شروع کی جائیں گی۔

