نئے سپریم لیڈر کے اعلان کے بعد امریکی و اسرائیلی طیاروں کی ایران پر شدید بمباری

نئے سپریم لیڈر کے اعلان کے بعد امریکی و اسرائیلی طیاروں کی ایران پر شدید بمباری

نئے سپریم لیڈر کے اعلان کے بعد امریکی اور اسرائیلی طیاروں کی جانب سے ایران پر شدید بمباری کی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران کے مختلف علاقوں میں شدید فضائی حملوں اور بڑے شدید دھماکوں کے ساتھ ساتھ ایران کے دیگر کئی شہروں، جن میں کرج اور تبریز شامل ہیں، کو بھی شدید حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

ان حملوں میں گورنر اصفہان کا دفتر اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں بھی شامل ہیں جبکہ  قدیم شاہی محل بھی نشانہ بن گیا، اصفہان میں دھماکے ایران کی نیوکلیئر سائٹس کے قریب ہوئے۔

شہریوں کے مطابق دھماکے اتنے شدید تھے کہ زمین لرز اُٹھی، جبکہ تہران سے جاری ہونے والی تصاویر میں دھماکوں کی وجہ سے شدید روشنی اور فضا میں بلند ہوتے دھوئیں کے بادل دیکھائی دے رہے ہیں۔

بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ ایران میں افزودہ یورینیم کے ذخائر محفوظ ہیں، ایرانی فوج اور انقلابی گارڈز کی جانب سے بھی مزاحمت جاری ہے۔

ایرانی فوج کا کہنا ہے ایک ٹن سے کم وزن والا کوئی میزائل لانچ نہیں کریں گے، ایران کی طرف سے اسرائیل پر بھی کچھ جوابی میزائل داغے گئے۔

واضح رہے کہ ایران میں اب تک اسرائیلی و امریکی بمباری سے شہادتوں کی تعداد 1300 سے تجاوز کرچکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :امریکی و اسرائیلی جنگی طیاروں کی تہران میں شدید بمباری

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ری پبلکن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کی پوری بحریہ کو تباہ کردیا گیا، ٹرمپ نے دعویٰ کیاکہ ایرانی بحریہ کے 51 جنگی جہاز تباہ کردیے، ایرانی بحری جہاز اب سمندر کی تہہ میں موجود ہیں۔

امریکی صدر نے کہا ایرانی ڈرون اور میزائل سسٹم کو بھی تباہ کردیاگیا جبکہ ڈرون مینوفیکچرنگ کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، ایران کےخلاف جنگ تقریبا جیت چکےہیں۔ نہیں جانتا کہ ایران کب ہتھیار ڈال دےگا تاہم ایران کی مکمل شکست تک حملےجاری رکھیں گے، ایران نےآئل سپلائی کونقصان پہنچایا تو ہم سخت حملےکریں گے۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہم حملہ نہ کرتےتو مجھے 100 فیصد یقین تھا کہ ایران ہم پرحملہ کردیتا، بی ٹوبمبار طیاروں کے استعمال نے ایران کو ہم پر حملہ کرنے سے روکا،  ہم آپریشن نہ کرتے تو ایران دو ہفتے میں ایٹم بم حاصل کرلیتا اور اگر ایران کے پاس ایٹم بم آجاتا تو یہ مشکل صورتحال ہوتی۔

ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان مضحکہ خیز قرار دیتے کہا ہے کہ حملے جاری رہے تو خطے سے تیل برآمد نہیں ہونے دیں گے،جنگ کب ختم ہوگی یہ اب ہم طے کریں گے،خطے میں سب محفوظ ہونگے یا کوئی نہیں ہوگا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *