ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے اہم عالمی بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش کی تو امریکا پہلے سے 20 گنا زیادہ سخت ردعمل دے گا۔
امریکی صدر نے ایک بیان میں کہا کہ اگر ایران نے اس اہم سمندری راستے کو بند کیا تو امریکا ایسے اہداف کو نشانہ بنائے گا کہ ایران دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوسکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں ایران پر موت، آگ اور شدید تباہی کا راج ہوگا تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ دعا کرتے ہیں کہ حالات اس نہج تک نہ پہنچیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے اور یہاں سے روزانہ بڑی مقدار میں تیل اور دیگر توانائی وسائل دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران اس راستے کو بند کرتا ہے تو یہ ان ممالک کے لیے بڑا مسئلہ بن جائے گا جو اس راستے سے توانائی حاصل کرتے ہیں۔
امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ اس سمندری راستے کے کھلے رہنے سے چین سمیت دیگر ممالک کو فائدہ پہنچ رہا ہے اور امید ہے کہ یہ ممالک اس صورتحال کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے۔
ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل مل کر ایران کی عسکری صلاحیت کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں جو بھی نئی قیادت سامنے آئی اسے ختم کردیا گیا اور آئندہ بھی اگر کوئی قیادت سامنے آئے گی تو اسے بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکی صدر کے اس بیان کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور اس کے حوالے سے کسی بھی قسم کی کشیدگی سے عالمی تیل کی منڈی اور خطے کی سکیورٹی صورتحال شدید متاثر ہوسکتی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔