افغانستان میں طالبان حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے باعث ملک کو شدید معاشی بحران اور ممکنہ غذائی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ افغان چیمبر آف کامرس اینڈ انویسٹمنٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو افغانستان میں قحط کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق تاجروں اور کاروباری حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ علاقائی کشیدگی اور تجارتی رکاوٹوں کے باعث ملک میں خوراک کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے، جس سے غذائی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔
افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انویسٹمنٹ کے بورڈ رکن خان جان الکوزے نے طالبان حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تاجروں کو مہنگے داموں درآمد کی گئی اشیائے خورونوش کم قیمت پر فروخت کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جس سے کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تجارتی بندش اور خطے میں عدم استحکام کے باعث بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے جبکہ درآمدات میں کمی کے باعث غذائی قلت کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔
افغان تاجروں کے مطابق اس وقت ملک کی منڈیوں میں صرف ایک سے ڈیڑھ ماہ تک کی خوراک کا ذخیرہ موجود ہے۔ اگر متبادل تجارتی راستے نہ مل سکے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
خان جان الکوزے نے خبردار کیا کہ اگر علاقائی کشیدگی برقرار رہی تو افغانستان میں غذائی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کے ساتھ تجارتی رکاوٹیں اور ایران کی موجودہ صورتحال کے باعث افغانستان کی معیشت دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سفارتی تنہائی کے بعد افغانستان بتدریج معاشی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔