ارکانِ پارلیمنٹ کے اثاثے خفیہ رکھنے کی ترمیم پر آئی ایم ایف کا اعتراض

ارکانِ پارلیمنٹ کے اثاثے خفیہ رکھنے کی ترمیم پر آئی ایم ایف کا اعتراض

آئی ایم ایف نے ارکانِ پارلیمنٹ کے اثاثوں کو خفیہ رکھنے سے متعلق قانونی ترمیم پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سیکریٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کسی صورت شفافیت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا اور انتخابی نظام میں کھلے پن کو برقرار رکھا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لاء ڈویژن نے آئی ایم ایف کو بتایا ہے کہ حکومت نے ابھی تک ان ترامیم کی حمایت نہیں کی۔ یہ ترامیم پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے بعض اراکینِ قومی اسمبلی کی جانب سے نجی بل کے طور پر پیش کی گئی تھیں۔

مزید بتایا گیا ک عالمی مالیاتی فنڈ نے لاء ڈویژن سے اس معاملے پر واضح موقف اختیار کرنے کو کہا ہے۔ قومی اسمبلی نے Elections Act 2017 میں ترمیم اس مقصد کے تحت منظور کی تھی کہ قانون سازوں کے اثاثوں اور واجبات کی عوامی تفصیلات کو محدود کیا جا سکے، جس کے حق میں پاکستان مسلم لیگ ۔ن کے اراکین نے ووٹ دیا تھا۔

تاہم ذرائع کے مطابق یہ ترامیم ابھی قانون کا حصہ نہیں بن سکیں کیونکہ سینٹ آف پاکستان میں اس بل پر ووٹنگ نہیں ہوئی۔ اس حوالے سے آئی ایم ایف نے مزید وضاحت طلب کر لی ہے۔

مزید پڑھیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی اہم ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *