کابل میں مولانا فضل الرحمان خلیل کی قیادت میں تین رکنی وفد کی موجودگی نے ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے جہاں وفد کا مقصد تبلیغ تھا اورافغان طالبان نے اسے رنگ کچھ اور دے دیا۔
ذرائع نے حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وفد میں شامل مولانا فضل الرحمان خلیل، مولانا عبداللہ شاہ مظہر اور مولانا ساجد عثمان خالصتاً دینی تبلیغ کے سلسلے میں نجی دورے پر افغانستان گئے ہیں مگر افغان طالبان (ٹی ٹی اے) نے اسے پاکستان کی جانب سے بھیجا گیا مذاکراتی وفد قرار دے کر دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
دوسری جانب حکومتِ پاکستان نے اس معاملے سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ ان مذہبی شخصیات کے دورے کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں اور کابل میں کسی پاکستانی مذاکراتی وفد کی موجودگی محض افواہ ہے۔
پاکستان نے اپنا دو ٹوک مؤقف دہرایا ہے کہ فتنہ الخوارج کے خاتمے اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی بیخ کنی تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔