کیا عوام کو بڑا ریلیف ملنے والا ہے؟ وزیراعظم شہباز شریف اور نواز شریف کی اہم ملاقات؟ کن امور پر بات ہوئی؟، اندرونی کہانی سامنے آگئی

کیا عوام کو بڑا ریلیف ملنے والا ہے؟ وزیراعظم شہباز شریف اور نواز شریف کی اہم ملاقات؟ کن امور پر بات ہوئی؟، اندرونی کہانی سامنے آگئی

وزیراعظم شہباز شریف نے جاتی امرا رائیونڈ کا دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف سے اہم اور تفصیلی ملاقات کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اہم مشاورتی بیٹھک میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی شریک تھیں۔ ملاقات میں ملکی سیاسی صورت حال، معاشی مشکلات اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی جیو پولیٹیکل تبدیلیوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے نواز شریف کو وفاقی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے معاشی اقدامات، آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات اور دوست ممالک کے ساتھ ہونے والے حالیہ معاہدوں پر اعتماد میں لیا۔

یہ بھی پڑھیں:عالمی بحران کو ٹالنے میں شہباز شریف،فیلڈ مارشل اور اسحاق ڈار کا اہم کردار ہے،نواز شریف

انہوں نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ اور عالمی رہنماؤں سے ہونے والی ملاقاتوں کے ثمرات سے بھی آگاہ کیا۔

عوام کو ریلیف فراہم کرنا اولین ترجیح ہے، نواز شریف

ملاقات کے دوران پارٹی قائد نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف کو ہدایت کی کہ وفاق اور پنجاب حکومت ایسی مربوط پالیسیاں وضع کریں جن کا براہ راست فائدہ عام آدمی تک پہنچے، عوام کومہنگائی میں ریلیف میسر آئے۔

انہوں نے تاکید کی کہ ’مہنگائی کو لگام ڈالنا اور غریب طبقے کی مشکلات کو کم کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے، عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہر ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں‘۔

ایک اہم سیاسی موڑ

یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان اپنی معیشت کو استحکام دینے کے لیے مشکل فیصلے کر رہا ہے۔ گزشتہ 2 سالوں کے دوران پاکستان کو شدید معاشی چیلنجز کا سامنا رہا ہے، جہاں افراط زر کی شرح 30 فیصد سے تجاوز کر گئی تھی۔

مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر اس وقت عوامی دباؤ ہے کہ وہ بجلی کی قیمتوں اور روزمرہ اشیا کے نرخوں میں کمی لائے۔ نواز شریف کی سیاست میں حالیہ فعال واپسی اور مریم نواز کی پنجاب میں گورننس ماڈل کو بہتر بنانے کی کوششیں اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔

کیا حکومت عوام کی توقعات پر پورا اتر پائے گی؟

ملاقات کا بنظرغائر جائزہ لیا جائے تو چند اہم نکات سامنے آتے ہیں کہ  نواز شریف ہمیشہ سے ’ترقیاتی سیاست‘ کے علمبردار رہے ہیں۔ ان کا وزیراعظم پر زور دینا کہ مہنگائی کم کریں، اس بات کا اشارہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) اب اپنے سیاسی گراف کو بچانے کے لیے سخت معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ’پاپولر ریلیف‘ کی طرف جانا چاہتی ہے۔

مریم نواز کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پنجاب (جو کہ ن لیگ کا گڑھ ہے) کو ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ پنجاب میں آٹے یا بجلی پر دیا جانے والا ریلیف وفاق کے لیے ایک ٹیسٹ کیس بن سکتا ہے۔

وزیراعظم کی جانب سے بین الاقوامی صورتحال پر بریفنگ کا مطلب ہے کہ پاکستان خطے میں بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال (جیسے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات) میں اپنا کردار واضح کر رہا ہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو۔

Related Articles