امریکا کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایک نیوز بریفنگ کے دوران ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے متعلق اہم دعوے کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے بحری، فضائی اور دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت دباؤ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور بدحواسی میں مختلف اقدامات کر رہا ہے۔
امریکی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے میزائل حملوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے اور گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ایران کی طرف سے کم میزائل داغے گئے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آج ایران کے خلاف مزید شدید حملوں کا امکان موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج نے ایران کے میزائل نظام اور دفاعی صنعتی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ جاری فوجی کارروائی، جسے آپریشن “ایپک فیوری” کا نام دیا گیا ہے، اپنے طے شدہ مقاصد کے مطابق جاری ہےانہوں نے مزید بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پیوٹن کے درمیان حالیہ گفتگو مثبت رہی اور امریکا اس مشن کو ہر صورت مکمل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
امریکی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،ان کا کہنا تھا کہ ایران نے اپنے پڑوسی ممالک کو نشانہ بنا کر ایک بڑی غلطی کی ہے۔
انہوں نے ایران کی قیادت کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ امریکی صدر کے پیغام کو سنجیدگی سے لیں اور کشیدگی کو مزید نہ بڑھائیں وزیر دفاع نے الزام لگایا کہ ایران خطے میں ہوٹلوں، ہوائی اڈوں اور کاروباری مراکز کو بھی نشانہ بنا رہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے تیل کی عالمی ترسیل کے اہم بحری راستے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش کی تو اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب امریکی فوج کے جنرل ڈین کین نے بھی بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی میزائل صلاحیت کو نمایاں نقصان پہنچا ہےانہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران اب تک ایران کے پچاس سے زائد بحری جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں اور اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر خطے میں خطرات کو کم کرنے کی کوشش جاری ہے۔
جنرل ڈین کین کا کہنا تھا کہ امریکی افواج خاص طور پر ان ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہی ہیں جو سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ایران اب بھی لڑ رہا ہے، لیکن اس کی فضائی دفاعی صلاحیت اب امریکی افواج کے لیے بڑا چیلنج نہیں رہی۔ ساتھ ہی انہوں نے جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی بھی کیا۔