پاکستان میں ’آزادی اظہار رائے‘ کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت موجود قانونی حدود و قیود ایک بار پھر زیر بحث آگئی ہیں۔ حکومتی اور عسکری حکام نے واضح کیا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے تاہم اس حق کے استعمال کے دوران ریاستی سلامتی، قومی مفادات اور قانون کی پابندی ضروری ہے۔
حکومت پاکستان کے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے منگل کو میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ آئین ہر شہری کو اظہار رائے کی آزادی فراہم کرتا ہے لیکن اس آزادی کے ساتھ کچھ قانونی حدود بھی متعین کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آزادیِ صحافت کے تحفظ اور صحافیوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کیلئے پُرعزم ہیں،شہباز شریف
حکام کے مطابق آئین کے آرٹیکل 19 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ آزادی اظہار رائے کے استعمال میں قومی سلامتی، دفاع، عوامی نظم و ضبط، اخلاقیات اور دیگر قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ اس حوالے سے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا 2 سال قبل دیا گیا بیان بھی دوبارہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اس وقت بطور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) انہوں نے کہا تھا کہ ’آزادی اظہار رائے کے پیچھے چھپ کر پاکستان کی سالمیت، سیکیورٹی اور دفاع پر حملہ نہیں کیا جا سکتا‘۔
🚨🚨 وفاقی وزراء اور پاک فوج کا دوٹوک پیغام:
وفاقی وزیر قانون، وزیر اطلاعات اور وزیر مملکت برائے داخلہ نے آج آزادی اظہار رائے کے حوالے سے اہم گفتگو کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت ہر شہری کو رائے کا حق حاصل ہے، مگر آزادی رائے کی آڑ میں دوست ممالک یا قومی مفادات… pic.twitter.com/XUOrvfa7iS— Azaad Urdu (@azaad_urdu) March 10, 2026

