وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں فرخ سلیم کے سوال کے جواب میں تفصیلی وضاحت پیش کی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے کہ ایک بیچ نکال کر اگلے بیچ کی قیمت کے مطابق حساب کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مسلسل بدلتی رہتی ہیں اور کمپنیاں اپنی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے نئے مال کی خریداری کا انتظام کرتی ہیں وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ کمپنیوں کے لائسنس کی شرط ہے کہ وہ کم از کم 20 سے 25 دن کا اسٹاک اپنے پاس رکھیں، چاہے اس کی قیمت 10 روپے ہو یا 100 روپے۔
ہفتہ وار قیمتوں میں جو فرق آتا ہے، اسے کاروباری عمل کا حصہ سمجھ کر برداشت کرنا پڑتا ہے، اگر آج کی قیمت کے مطابق کمپنیاں 25 دن بعد نیا مال خریدیں تو انہیں قیمتوں کے حوالے سے حد تک پیش بینی اور استحکام دینا ضروری ہوتا ہے۔
علی پرویز ملک نے واضح کیا کہ اگر عالمی قیمتیں اچانک گر جائیں تو حکومت کمپنیوں کو نقصان کی تلافی نہیں کرتی اور اسی طرح اگر قیمتیں بڑھ جائیں تو یہ بھی کاروبار کے عمومی اتار چڑھاؤ کا حصہ ہے۔پاکستان میں تقریباً 40 سے 42 پیٹرولیم کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر حال میں مطلوبہ مقدار میں تیل کا ذخیرہ رکھیں تاکہ عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
اس مقصد کے لیے اوگرا کی ٹیمیں، فیلڈ مارشل کی زیر نگرانی ڈی جی لاجسٹکس کی ٹیم اور تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ کمپنیاں اپنی ذخیرہ رکھنے کی ذمہ داری پوری کریں اور پیٹرول پمپوں پر سپلائی متاثر نہ ہو۔
فرخ سلیم نے سوال کیا کہ 9 مارچ کو بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ اور پھر تیز کمی واقع ہوئی، تو کیا پاکستان میں بھی قیمتیں کم ہوں گی؟اس پر علی پرویز ملک نے وضاحت کی کہ عالمی سطح پر ٹینکروں کی کمی ہے، علاقائی حالات کی وجہ سے کئی کمپنیاں ٹینکروں کا انشورنس کرنے سے گریز کر رہی ہیں اور اضافی پریمیم بھی عائد کیا جا رہا ہے، جو حکومت کے لیے مجموعی لاگت میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ عملی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر لاگت کا حساب نہیں لگانا چاہیے، سعودی عرب پاکستان کی مدد کر رہا ہے اور بڑے ٹینکر کی بندوبست کر رہا ہے، جسے عمان میں لنگر انداز کیا جائے گا اور وہاں سے چھوٹے کیریئر جہازوں کے ذریعے پاکستان منتقل کیا جائے گا۔
سعودی عرب نے پاکستان کو بڑے پیمانے پر تعاون فراہم کیا ہے اور حتیٰ کہ Very Large Crude Carrier (VLCC) فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے، تاہم یہ بڑے جہاز پاکستانی بندرگاہوں پر براہِ راست نہیں لنگر انداز ہو سکتے۔
روس سے VLCC پہنچنے کے بعد اسے عمان میں لنگر انداز کیا جاتا ہے، پھر پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے جہاز عمان پہنچ کر تیل کو چھوٹے جہازوں میں منتقل کرتے ہیں تاکہ پاکستان پہنچایا جا سکے۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ عوام کو گمراہ نہ کیا جائے کیونکہ ملک مشکل وقت سے گزر رہا ہے اور سب امید کرتے ہیں کہ پاکستان ان چیلنجز پر قابو پا لے گا، انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ سپلائی کا تسلسل برقرار رہے گا اور مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات دستیاب رہیں گی۔