امریکی سینیٹ میں اکثریتی لیڈر چک شمر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق حالیہ بیانات کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں “حقائق کے منافی اور غیر سنجیدہ” قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکی سینیٹر چک شمر نے صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں انہوں نے ایک اسکول پر ہونے والے حملے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا تھا۔ سینیٹر چک شمر نے صدر ٹرمپ کے بیان میں موجود تکنیکی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا: صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے “ٹوماہاک” میزائلوں کے ذریعے ایک اسکول کو نشانہ بنایا۔ چک شمر نے دوٹوک انداز میں کہا، “ایران کے پاس ٹوماہاک میزائل موجود ہی نہیں ہیں۔ یہ دعویٰ انتہائی احمقانہ ہے۔”
امریکی سینیٹر کے مطابق ٹرمپ اکثر بغیر سوچے سمجھے ایسے بیانات دیتے ہیں جو ان کے ذہن میں آتے ہیں، جس سے عوام میں غلط معلومات اور گمراہی پھیلتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر کے ایسے بیانات امریکہ کی عالمی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں کیونکہ وہ اکثر حقیقت کے بجائے جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔
امریکی میڈیا اور دفاعی ماہرین کی رپورٹس صدر ٹرمپ کے دعوے کے برعکس ایک مختلف منظرنامہ پیش کر رہی ہیں۔ ایک امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق، جس اسکول کو نشانہ بنایا گیا، وہاں سے ملنے والے شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ وہ غالباً ٹوماہاک میزائل ہی تھا، لیکن یہ میزائل خود امریکہ کی جانب سے داغا گیا ہو سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ نہ تو ایران اور نہ ہی اسرائیل کے پاس ٹوماہاک میزائل موجود ہیں، یہ ٹیکنالوجی بنیادی طور پر امریکی بحریہ اور فضائیہ کے زیرِ استعمال ہے۔ پیر کے روز منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران جب ایک صحافی نے صدر ٹرمپ سے براہِ راست سوال کیا کہ “کیا امریکہ اس اسکول پر حملے کی ذمہ داری قبول کرے گا؟” تو صدر ٹرمپ نے اس کا کوئی واضح جواب دینے کے بجائے اسے گول مول کرنے کی کوشش کی اور ایران پر الزامات دہرانے پر اکتفا کیا۔
مزید پڑھیں: مجتبیٰ خامنہ ای کیلئے دانشمندی ہوگی وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پیغام پر عمل کریں، جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں،امریکی وزیر دفاع