امریکہ نے افغانستان کے لیے سخت سفری انتباہ جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو ملک کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کر دی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ انتہاپسند پالیسیوں کے باعث طالبان رجیم عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق بھارت کی سرپرستی میں افغانستان سے پنپتی دہشتگردی خطے اور عالمی امن کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے افغانستان کو “اسٹیٹ اسپانسر آف رانگ فل ڈیٹینشن” قرار دے دیا ہے۔ اس کے بعد امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری مورا نامدار نے بھی وزیر خارجہ کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے افغانستان کے حوالے سے سفری انتباہ جاری کر دیا۔
امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری مورا نامدار کے مطابق افغانستان میں امریکی شہریوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں ، انہوں نے کہا کہ افغانستان کے لیے امریکہ کی سب سے بلند درجہ کی ٹریول ایڈوائزری لیول 4 یعنی “ہرگز سفر نہ کریں” برقرار ہے۔
مورا نامدار نے مزید کہا کہ طالبان کے بلند و بانگ دعوؤں کے برعکس افغانستان محفوظ نہیں ہے، اس لیے امریکی شہری کسی بھی صورت افغانستان کے کسی بھی حصے کا سفر نہ کریں۔
انہوں نے افغانستان میں موجود امریکی شہریوں کو بھی فوری طور پر وہاں سے نکل جانے کی ہدایت کی۔
عالمی ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کو عالمی سطح پر درپیش ہزیمت دراصل پاکستان کے اس مؤقف کی واضح تائید ہے کہ طالبان حکومت دہشتگردوں کی سرپرستی میں ملوث ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ میں افغان مندوب نصیراحمد فائق بھی افغانستان میں دہشتگردوں کی موجودگی کا اعتراف کر چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق عالمی ٹریول ایڈوائزریز کے باوجود افغانستان میں بھارتی سرگرمیاں بھارت اور طالبان رجیم کے درمیان گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہیں۔