ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے فرزند اور حکومتی مشیر یوسف پزشکیان نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی زخمی ہونے کی رپورٹس کے بعد تصدیق کی ہے کہ وہ بالکل خیریت سے اور محفوظ ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یوسف پزشکیان کی جانب سے ٹیلی گرام پر جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ انہیں بھی ایسی ’اطلاعات ملی ہیں‘ کہ نئے رہبرِ اعلیٰ زخمی ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ میں نے متعدد دوستوں سے پوچھا جن کے رابطے ہیں ، خدا کے فضل سے، وہ محفوظ ہیں اور پریشانی کی کوئی بات نہیں۔‘
قبل ازیں ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے مجتبیٰ خامنہ ای کو رمضان جنگ کا زخمی جانباز قرار دیا تھا، تاہم ان کے زخمی ہونے کی نوعیت یا تفصیلات کبھی واضح نہیں کی گئیں۔
خیال رہے کہ مختلف میڈیا پر یہ خبریں چل رہی تھیں کہ نئے رہبرِ اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای منظرِ عام پر نہیں آئے ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کو جنگ کے آغاز میں ہونے والے حملوں کے دوران ٹانگوں پر چوٹیں آئیں، اسی دن ان کے والد اور ایران کے طویل عرصے تک سپریم لیڈر رہنے والے علی خامنہ ای بھی شہید ہوئے تھے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب مجتبیٰ خامنہ ای کی عوامی غیر موجودگی اور جنگ کے دوران زخمی ہونے کی افواہوں نے بین الاقوامی میڈیا میں تشویش پیدا کی تھی۔
ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ اور مجتبی کے والد علی خامنہ ای کی امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا رہبرِ اعلیٰ منتخب کیا گیا تھا۔