پنجاب حکومت نے چیف منسٹر آئی ٹی انٹرن شپ پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد آئندہ پانچ سالوں میں 30 ہزار آئی ٹی گریجویٹس کو مواقع فراہم کرنا ہے۔
اس پروگرام کے تحت منتخب انٹرنز کو 50 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا جبکہ انٹرنز کو رکھنے والی نجی آئی ٹی کمپنیوں کو ہر امیدوار کے لیے 12 ہزار 500 روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کی جائے گی۔
یہ پروگرام وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں شروع کیا جا رہا ہے اور اس پر عملدرآمد پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی نگرانی میں ہوگا۔
یہ انٹرن شپ پروگرام پانچ سالہ منصوبہ ہے جس کے لیے حکومت نے 30 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ ہر منتخب امیدوار چار ماہ تک انٹرن شپ کرے گا اور جدید ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں عملی تجربہ حاصل کرے گا۔
اس پروگرام کے لیے ایک مرکزی آن لائن پورٹل بھی بنایا جائے گا جو بھرتی، رجسٹریشن اور انٹرنز کی نگرانی کا نظام سنبھالے گا تاکہ عمل کو شفاف اور آسان بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ انٹرنز کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ آئی ٹی سرٹیفیکیشن بھی فراہم کی جائیں گی جس سے ان کی عالمی آئی ٹی مارکیٹ میں قدر بڑھے گی۔
منتخب انٹرنز کو ٹیکنالوجی ایکسپوز، انوویشن فیسٹیولز اور اسکل ڈیولپمنٹ ایونٹس میں بھی شرکت کا موقع ملے گا جہاں وہ اپنے منصوبے پیش کر سکیں گے اور جدید ٹیکنالوجی کے رجحانات کے بارے میں سیکھ سکیں گے۔
حکام کے مطابق اس پروگرام کا مقصد تعلیم اور صنعت کے درمیان خلا کو کم کرنا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور پاکستان کے آئی ٹی شعبے کو مضبوط بنانا ہے تاکہ نوجوانوں کو عملی تجربہ اور مالی معاونت دونوں حاصل ہو سکیں۔