ایران، امریکا اور اسرائیل جنگ کے دوران مشرق وسطیٰ میں امریکی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی سیٹلائیٹ تصاویر پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے امریکی اور اتحادی اہداف پر ڈرون اور میزائل حملے کیے ، جن میں امریکی فوجی اڈوں، فضائی دفاعی نظام اور سفارتی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
مشرق وسطیٰ میں کم از کم 17 امریکی مقامات کو نقصان پہنچا، جن میں 11 امریکی فوجی اڈے یا فوجی تنصیبات بھی شامل ہیں، سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس، قطر کے العدید ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا جبکہ کویت کے علی السالم ایئر بیس اور کیمپ بوہرنگ بھی حملوں سے متاثر ہوا۔
رپورٹ کے مطابق بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ ہیڈ کوارٹر کو بھی شدید نقصان پہنچا، جبکہ متحدہ عرب امارات کے الظفرہ ایئر بیس اور جبل علی پورٹ بھی ایرانی حملوں میں متاثر ہوئے۔
دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے جنگ کے خاتمے کے لیے 3 اہم شرائط پیش کی ہیں جن میں ایران کے ’جائز حقوق‘ کو تسلیم کرنا، جنگی نقصانات کا ازالہ (ہرجانے کی ادائیگی) کرنا اور مستقبل میں کسی بھی جارحیت کے خلاف مضبوط بین الاقوامی ضمانتیں شامل ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا، ایران کے خلاف جنگ جیت چکے لیکن جلد نکلنا نہیں چاہتے۔
کینٹکی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جب تک ہمارا مقصد پورا نہیں ہوجاتا ایران سے نہیں جائیں گے۔